الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 46 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 46

بعض مفترین کے آخر الان بسیار کے بہ تا دیلی معنی اختیار کرلئے ہیں کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم وضعت نبوت پانے میں آخری ہیں۔لہذا حضرت میلے علا السلام ان معنوں میں چونکہ آخری نبی نہیں اس لئے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آسکتے ہیں۔مگر افسوس ہے کہ انہوں نے یہ نہ سوچا کہ اس جواب سے شبہ رفع نہیں ہوگا بلکہ اس خطرناک نتیجہ پر نتیج ہو گا کہ حضرت عیسے علیہ السلام جو ایک مستقبل اور بقول مفتی خلاف حدیث لا نبق بعد وجہ یا شریعی بنی ہے ہے اللہ علیہ وسلم کے بعد اگر یا تشریعی ہونے کے آنحضرت على الاطلاق آخر النبيين بن جائیں گئے۔جو مفتی صاحب کے نزدیک خاتم النبین کے حقیقی معنے ہیں۔علی اللہ طلاق آثر النبیین اس لئے بن جائیں گے کہ مفتی صاحب ان کے بعد تا قیامت کسی اور نجی کے آنے کے قائل نہیں پس اس طرح حضرت جیسے علیہ اسلام تو علی الاطلاق آخری بنی بن جائیں گے اور آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم اس تقید صورت میں آخری بنی رہ جائیں گے کہ آپ نے وصف نبوت سب نبیوں سے آخر میں پایا۔پیس مفتی صاحب کے اس جواب سے شبہ نے حل کیا ہونا تھا وہ پہلے سے بھی زیادہ قوی اور خطرناک صورت اختیار کر رہا ہے۔جو یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ یہ لمحل الاطلات آخری بنی نہیں رہتے بلکہ علی الاطلاق آخری نبی حضرت عیلئے علیہ السلام بن کر على الاطلاق خاتم النبین بن جاتے ہیں۔اور خاتم النبین بھی حقیقی کیونکے مفتی صاحب نے تحاشہ کے معنی آخری کو حقیقی معنی قرار دیا ہے پس انحضرت