الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 42 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 42

۴۳ ترجمہ۔یہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قول من اللبين انعم الله علي مر کی تفسیر ہے۔پس گویا یہ کہا گیا ہے جو اللہ اور رسول کی اطاعت کر سے اُسے اللہ نے ان لوگوں سے بلا دیا ہے جو مشعر علیم ہیں اور پہلے گزر چکے ہیں دنیاں تک قبول مفسر سحر المحیط کا ہے۔آگے وہ امام راغب کا قول پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں) راغب نے کیا ہے۔انعم الله عليكم کے چارہ گروہوں سے مرتبہ اور ثواب میں ملا دیا ہے۔اللہ اور رسول کی پیروی سے بنی بننے والے کو کسی پہلے نبی کے ساتھ مرتبا دور ثواب میں طادیا ہے۔اور صدیق بننے والے کو کسی پہلے گذرے ہوئے صدیق سے مرتبہ اور ثواب میں ملا دیا ہے اور شہید بننے والے کو کسی پہلے گزرے ہوئے تشہیر سے مرتبہ اور ثواب میں ملا دیا ہے۔اور صالح نجنے والے کو کسی پہلے گزرے ہوئے صالح سے مرتبہ اور ثواب میں ملا دیا ہے۔پس امام را حب امت محمدیہ میں نبی پیدا ہونے کو خاتم النبین کے سنائی نہیں جانتے بلکہ اوپر کی آیت سے اس کا امکان ثابت کر رہے ہیں۔پس مفتی صاحب کے بارہ میں یہ بات خدا کے فضل سے واضح ہو چکی ہے کہ وہ خاتم اور خاتم کے مجازی معنوں کو حقیقی معنی قرار دینے میں اور ان کے حقیقی معنی خاتم بالذات کو ترک کرنے میں سخت غلطی میں مبتلا ہیں۔