الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 39 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 39

۴۰ L مجازی معنی ہیں نہ کہ حقیقی معنی۔پس تقسیم کرنے والا اور آخری کو عربی زبان کے لحاظ سے خاتم اور خاتم کے حقیقی معنی قرار دینا محض مفتی صاحب کا اور۔کا حکم اور مغالطہ ہے حقیقی معنی خاتم بفتح تار کے تاثیر کا ذریعہ اور خاتیم اور بکسر تاء کے موثر ذریعہ ہیں۔پس خاتم النبین کے حقیقی معنی ہوئے جیوں کے لئے موثر ذریعہ ر خاتم فتح تا ء کی قرآت اور نبیوں کے لئے موثر نبی۔رضا تیم بکسرتاء کی قرآت میں) اور خاتم النبیین کے معنی مطلق آخری نبی یا وصف نبوت کے ساتھ سب سے آخر میں منصف ہونے والا نبی مجازی معنی قرار پائے اور جب حقیقی معنی خاتم النبیین کے خاتمیت بالذات مرتبی میں آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو بالذات ثابت کرتے ہیں اور باقی انڈیاء کی نبوتوں کو آپ کا فیض قرار دیتے ہیں اور یہ معنی اس جگہ محال نہیں اور نہ مولانا محمد قاسم صاحب علیہ الرحمہ جیسا فاضل اجل انہیں اختیا کرتا۔لندا مطلق آخری نبی یا آخری نبی معنی سب سے آخر میں وصعت نبوت سے متصف ہونے والا نبی مجازی معنی اقرار پاتے۔اور مجازی و حقیقی دونوا معنیٰ ایک ذات میں صادق نہیں آسکتے۔کیونکہ ان میں ایسا تیائین اور منافات ہوتی ہے جس کی وجہ سے ان کا اجتماع ایک لفظ میں ایک محل پر بحال ہوتا ہے۔لہذا یہ امر مفتی صاحب کی علمی لغزش ہے کہ ہ سب نبیوں کو ختم کرنے والا یا آخری نبی یا وسعت نبوت پانے میں سب سے آخری بیٹی کے معنوں کو جو مجازی معنی میں حقیقی معنی قرار دے رہے ہیں۔ان کے یہ سینے خاتم بالذبات کے معنی کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔جنہیں