الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 40
M مرادی محمد قاسم صاحب نے اختیار کیا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خاتمیت زمانی تسلیم کرنے کے باوجود یہ لکھا ہے کہ :۔بالفرض اگر بعد زمانہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلمہ بھی کوئی نہیں پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہیں آئے گا یہ ر تحذیر الناس مارا بلحاظ ایڈیشن مختلفی مفتی صاحب کے معنوں سے تو آئندہ ہنی پیدا ہونے سے خالیت محمدی میں فرق آجاتا ہے۔پس مفتی صاحب کے حتی قائم بالذات کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔خاتم بالذات کے ساتھ خاتمیت زمانی صرف اپنی معنوں میں جمع ہو سکتی ہے کہ مالیت زمانی کا یہ معصوم ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخری تشریعی نبی ہیں جن کی شریعیت تا قیامت قائم رہے گی۔ان معنوں کی موجودگی میں امت محمدیہ میں غیر تشریعی امتی نبی کے پیدا ہونے سکا امکان رہتا ہے جس کا کام تجدید دین اور اشاعت اسلام ہو۔مفردات القرآن میں ختم کے مصدری معنی تاثیر الشی اور اثر حاصل دیکھنے کے بعد امام را غوری نے خاتم النبین کے معنوں میں لکھا ہے۔خاتم النبين لأنَّه خَمَ النُّبوة أن تَتَمَهَا (مفردات القرآن زیر لفظ ختم مجید جون کو امام را غیبت امت محمدیہ میں آنحضرت تابع اما مر را شب کے نزدیک اسے اللہ علیہ وسے کے لئے امتی نبی کا آنا صل امتی نبی کا امکان خاتم النبیین کے منافی نہیں جانتے