الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 28
۲۹ ہو وہ محال ہے لہذا مفتی صاحب کا خاتمیت زمانی کا مزعوم مفهوم محال ملنا کا مزعوم موم ثابت ہوا۔علاوہ ازیں مولانا محمد قاسم صاحبات ان دونوں معنوں میں علت محلول کا علاقہ قرار دیتے ہیں۔چنانچہ آپ مناظرہ عجیبہ میں مولوی عبد العزیز نما کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں:۔مولانا خاتمیت زمانی کی تو میں نے تو جید اور تائید کی ہے تخلیط نہیں کی۔مگر آپ گوشہ عنایت و توجہ دیتے ہی نہیں تو میں کیا کروں۔اخبار بالعلت مكذب، اخبار بالمحلول نہیں ہوتا۔بلکہ اس کا مصدق اور مرید ہوتا ہے۔اوروں نے فقط خالی چھی زمانی اگر بیان کی تھی تو میں نے اس کی حکمت یعنی ماتیست مرتبی کا به نسبت خاتمیت زمانی ذکر کیا۔(مناظره عجیبه ۳۲۰) پس مولانا محمد قاسم صاحب علیہ الرحمہ کے نزدیک خاتم النبیین کی خاتمیت بالذات مرتبی خامیت زمانی کی علت اور ملزوم ہے اور قائمیت زمانی ان معنی کا محلول اور لازم المعنی ہے۔اور محلول کا ملت سے اور لازم کا ملز دم سے ہے تعلق ہونا محال ہے۔لہذا خاتم النبیت تین کے ہر دو معنی خاتم بالذات اور خاتم زمانی تسلیم کرنے پر دونوں میں علمت وعلول اور ملزوم ولازم کے علاقہ ہونے کی وجہ سے انہیں ایک دوسرے کی نقیض نہیں ہوتا چاہیے۔تبھی تو مولانا محمد قاسم صاحب علیہ الرحمتہ کا یہ بیان درست لانامحمد بیان قرار پاسکتا ہے کہ :۔