الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 298
جناب مفتی صاحب نے اپنی کتاب کے حصے پر حقیقۃ الوحی سے یہ حوالہ بھی درج کیا ہے جو ہمارے نزدیک اصولی ہے۔حوالہ کی عبارت یوں ہے:۔ہر حال کسی کے کفر اور اس پر اتمام محبت کے بارے میں فرد فرد کا حالی دریافت کرنا ہمارا کام نہیں یہ اس کا کام ہے جو عالم الغیب ہے۔ہاں چونکہ شریعت کی بنیاد ظاہر پر ہے اس لئے ہم منکر کو مومن نہیں کہہ سکتے اور نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ 19 مواخذہ سے بری ہے۔(حقیقۃ الوحی ) پس جماعت احمد یہ مسیح موعود کے انکار کی بناء پر کسی فرد کے جتنی جیتی ہونے کا فتوی نہیں دیتی۔کیونکہ اس عبارت کی روشنی میں کسی کے کفراد راس پر مواخذہ کے بارے میں فرد فرد کا حال دریافت کرنا ہمارا کام نہیں۔یہ کام عالم الغیب خدا کیا ہے۔شریعیت کی بنیاد ظاہر پر ہے۔جو کہ طیبہ کا اقرار کرتا ہے۔وہ مسلمان کہلائے گا خواہ اس کے المیان میں کتنا بڑا نقص ہو یہی جماعت احمدیہ کا مذآب ہے اور جو اس کے خلاف الزام دیتا ہے۔اس نے حقیقت کو نہیں سمجھا۔یہ ہوا کہ تکفیر کی ابتداء حضرت باقی سلسلہ احمدیہ مرزا غلام محمد خلاصہ کلام علی اسلام کی طرف سے نہیں ہوئی۔بلکہ آپ کے بعض معاند اور مخالف علماء نے آپ پر کفر کا فتوسنی لگایا۔اور آپ کے خلاف سخت تشدد کی راہ اختیار کی اور آپ کو مزناہ اور زندیق تک قرار دیا۔اور آپ نے اس پر بھی صبر کیا اور مسلمانوں سے مصالحت چاہی۔جسے ٹھکرا یا گیا تو آپ