الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 296 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 296

۲۹۶ ترجم را امام طحاوی اور بہار سے اصحاب نے امام ابو حنیفہ سے روایت - کی ہے کہ کسی آدمی کو ایمان سے صرف اس چیز کا انکار ہی خارج کر سکتا ہے جس نے اسے اسلام میں داخل کیا تھا۔ہے واضح ہو کہ اسلام میں داخل کرنیوالا امر کلا شهادت اشهد ان لا إله إلا الله وَاشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّد عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ہی ہے۔جس کا خلاصہ کلمہ طیبہ لا إله إلا اللهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ ہے۔اسی کلمہ کے پڑھنے سے ایک غیر مسلم مثلاً یہودی۔عیسائی یا ہندو اسلام میں داخل ہو جاتا ہے۔لہذا امام ابو حنیفہ کے فتوئی کے مطابق اس کلمہ کے اقرار کے بعد اس کے صریح انکار سے ہی کوئی شخص کا فر یعنی خیر سلم یا مرند یا خارج از ملت اسلامیہ قرار پا سکتا ہے۔ہیں جب حضرت بانی سلسلہ احمدیہ اور آپ کی جماعت کلمہ شہادت اور کلمہ طیبہ پر نہ صرف صدق دل سے ایمان رکھتی ہے بلکہ تمام ارکان اسلام کی پابند ہے جو کلمہ شہادت کے علاوہ نمازہ روزہ بیج اور ترکو تاہیں تو علماء کی طرف سے آپ کی اور آپ کی جماعت کی تکفیر ظلم عظیم ہے۔اور انصاف کا خون کرنے کے مترادت ہے۔فقہ حنفیہ میں کے ماننے والے پاکستان میں سب سے زیادہ ہیں۔تو ایسی محتاط فقہ ہے کہ اس میں یہ بھی مسلم ہے:۔رد كانت في المسلة وجوية توجب التكفير روبه وَاحِدٌ يَعْلَمُ فَعَلَى الْمُفْنِى ان يميل