الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 292
۲۹۲ شخص ظالم کے ساتھ اسے قوت دینے کے لئے اسے ظالم جانتا ہوا چل پڑا تو وہ اسلام سے نکل گیا۔مراد یہ ہے کہ اس کا یہ فعل نہایت گھناؤنا ہے۔اور ایسے شخص نے حقیقت اسلام کو نہیں سمجھا ت یا شد واضح جو تکفیر المسلمین ایک بہت بڑا جرم ہے جس کا از تکاب حضرت بانی سلسلہ احمدیہ اور آپ کی جماعت کے خلاف بعض معاندین علماء نے کیا۔حالانکہ فقہ اسلامی کی رو سے انہیں تکفیر کا حق نہیں پہنچتا تھا۔کیونکہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : 10 من صلى صلوتنَا وَاسْتَقَبل قِبْلَتَنَادَ اكل ذبِيحتَنَا فَذلِكَ الْمُسْلِمُ الَّذِي لَهُ ذِمَّةٌ القوة وقة تسويه للا اتخيرُوا الله في وتيه درواہ البخاری - مشکوۃ المصابيح كتاب الايمان الفصل الاول كلب) یہ روایت حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔انہوں نے کہا کہ رسول کریم بقیه حاشیه : - صاحب شریعت ہوں، اور آپ نے مسیح موعود کے انکار کو شرعیت محمد یہ سکے دو سے لاونا کفر قرار دیا ہے نہ کہ اپنی کسی شریعیت کے روتے۔لہذا آپ کی طرف تشریعی نبوت کا دعوی منسوب کرنا محض افتراء ہے۔آپ نے ہمیشہ تشریعی نبی ہونے کے دعوی سے انکار کیا ہے۔مفتی صاحب حضرت مسیح موبور علیہ السلام کی کسی کتاب سے یہ نہیں دکھا سکتے کہ آپ نے یہ کہا ہو کہ ایک تشریعی نبی ہوں۔میں نے ایسا دیکھا پر مفتی صاحب کو ایک ہزار روپیہ انعام دینے کا وعدہ کیا ہے۔منہ