الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 290
٢٩٠ اتنا حالات میں اگر حضرت بانی سلسلہ احمدیہ بھی ان لوگوں کے متعلق صرف یہ کہیں کہ وہ کا فرمی تو تموجب حدیث نبوی یہ <mark>امر</mark> قابل اعتراض <mark>نہی</mark>ں کیونکہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ مسلمان ہیں اور ارکان اسلام کے پابند ہیں اور اسلام کے او<mark>امر</mark> کو او<mark>امر</mark> اور م<mark>نہی</mark>ات کو م<mark>نہی</mark>ات سمجھ کر ان پر عامل ہیں۔اور اسی <mark>امر</mark> کی آپ نے اپنی جماعت کو ہدایت فرمائی ہے۔لیکن اس کے با وجود معاند علماء مئے آپ کے خلاف نہ صرف کنار کا ننوسی و یا بلکہ آپ کو مرتد اور زندیق تک قرار دیا۔مگر آپ کے ماننے والوں نے کبھی غیر احمدی مسلمانوں کو مرتد اور زندیق قرار <mark>نہی</mark>ں دیا۔اور نہ غیر مسلم ٹھہرایا ہے۔آپ کے فتوی میں مسلمان نہ ہونے کے الفاظ نفی کمال کے لئے آتے ہیں یعنی ان سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ وہ کا مال مسلمان <mark>نہی</mark>ں نہ یہ کہ وہ مرے سے مسلمان ہی <mark>نہی</mark>ں۔چنانچہ آپ کا ایک الهام مسلمان را مسلمان باز گردند اس بات پر نقص صریح ہے کہ آپ نے اپنے مخالفین و معاندین کے کامل الامیان ہونے کی نفی کی ہے۔نہ علی الاطلاق البیان و اسلام کی نفی۔مفتی صاحب نے خود لکھا ہے کہ حضرت بانی اسلسلہ احمدیہ کے نزدیک کفر کی دو قسمیں ہیں۔اول یہ کفر کہ ایک شخص اسلام ہی سے انکار کرتا ہے۔اور آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کو خدا کا رسول <mark>نہی</mark>ں مانتا۔دو تھم۔دوسرے یہ کفر کہ مسلم مسیح موجود کو <mark>نہی</mark>ں مانتا اور اس کو باوجود اتمام محبت کے جہڑا جاتا ہے جس کو ماننے اور سنیچا