الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 289 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 289

۲۸۹ شوق رکھنے والا قرار دیا۔ان الفاظ سے یہ ظاہر کرنا مقصود تھا۔کہ وہ اسلام کا فرزند نہیں۔اس کے نسب پر کوئی طعن مقصود نہ تھا۔اسی مضمون میں مفتی صاحب نے بعض عبارتیں میں تکفیر اسلمین کا الزام بات کے ثبوت میں پیش کی ہیں کہ حضرت پائی اللہ احمدیہ اور خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کی تکفیر کی ہے۔اس کے جواب میں واضح ہو کہ تکفیر کی ابتداء حضرت بانی سلسلہ احمدیہ اور جماعت احمدیہ کی طرف سے نہیں ہوئی۔بلکہ تکفیریں ابتداء آپ کے مخالف علماء نے کی ہے اور ان کے مقابلہ میں رد عمل کے طور پر موجب حدیث نبوی ايما رَجُلٍ مُسَامٍ أَكْفَرَ رَجُلًا مُسْلِمًا فَإِنْ كَانَ كَافِرًا وَإِلَّا كَانَ هُوَ الْكَافِرُ۔(ابو داؤد جلد مل کتاب السنة باب آپ الدليل على الزيادة والنقصان وكنز العمال جلد مثلا ) جدا وسنة سنة مثلما کے مطابق کفر کا فتونی ان پر داس لوٹایا۔اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو مسلمان کسی مسلمان کو کافر قرا نہ دے اگر وہ کا فر ہے تو خیر درنہ وہ خود کا فر ہو جائے گا۔تاہم حضرت بانی سلسلہ احمدیہ اور آپ کے خلفاء نے تکفیر میں نہیں تشدد کی راہ اختیار نہیں کی جو معاند علماء اسلام نے آپ کے تسلامت اختیار کی تھی۔معاندین نے تو آپ کو مرند - زندیق - ضال مضل۔وقال وسواس شناس بھی قرار دیار ملاحظہ ہو نتونی مولوی عبدالحق غزنوی شاد مطبوعہ رسالہ اشاعه السنته ملدا ما)