الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 285
۲۸۵ انی معنوں میں اپنی بخت کیا جاتا ہے۔پس اس جگہ کنجریوں کی اولاد تر جم کرنا محض مودودی صاحب کی زیادتی ہے اور بدکاروں کی اولاد ترجمہ میں لکھنا تلبیس در تبلیس ہے۔خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک سرکش کو اپنے ایک عربی شعر میں ابن بجا لکھ سکہ اس کا ترجمہ اسے سرکش انسان کیا ہے۔ملاحظہ ہو اختبار الحکم جلد کے بابت ۲۴ فروری سنشاه صفحه ۲ کالم ۲ - اس امر کا ثبوت کہ یہ الفاظ سرکش آریوں اور نیسائیوں کے لئے استعمال ہوئے ہیں۔یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسی کتاب آئینہ کمالات اسلام میں اپنے آپ کو دوسرے مسلمانوں میں شامل کیا ہے چنانچہ آپ نظریہ فرماتے ہیں :- بر مولوی لوگ اپنے نفسا نی جھگڑوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور دعوتی اسلام کی نہ لیاقت رکھتے ہیں نہ اس کا کچھ جوسش نہ اس کی کچھ پرواہ۔اگر ان سے کچھ ہو سکتا ہے تو صرف اسی قدر کہ اپنی ہی قوم اور اپنے ہی بھائیوں اور اپنے جیسے مسلمانوں اور اپنے جیسے کلمہ گویوں اور اپنے جیسے اہل قبلہ ریعنی بانی سلسلہ احمد ہے اور آپ کی جماعت - ناقل) کو کافر قرالہ دیں۔اقبال کہیں اور بے ایمان نام رکھیں اور تنولی لکھیں کہ ان سے ملنا جیسا بند نہیں اور ان کا جنازہ پڑھنا روا نہیں۔آئینہ کمالات اسلام ۲۶۵ ۲۶۶ حاشیه)