الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 261 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 261

۲۶۲ بلکہ ایسا دعوی نبوت کا میرے نزدیک کفر اور نہ آج سے بلکہ اپنی ہر ایک کتاب میں ہمیشہ میں یہی لکھتا آیا ہوں کہ اس قسم کی نبوت کا مجھے کوئی وخونی شین و اخبار نام ۲۰ مئی شاد یہ تحریر ۲۳ مئی ۱۹ء کو لکھی گئی تھی اور ۲۶ مئی شنواری کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے دن اخبار عام میں شائع ہو گئی۔پیس مفتی صاحب کا آپ پر تشریعی بنی ہونے کے دعوئی کا الزام سراسر افترا ہے۔انبیاء سے فضلیت مفتی صاحب بحوالہ حقیقة الوحی صدا و نزول مسیح ہے ایک عبارت درج کر کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر تمام انیل یار سے افضل ہونے کے دعوئی کا الزام کے دعوی کا الزام لگا تے ہو۔وہ عبارت یہ ہے:۔تیں اور جوں نہیں بیٹھے ہوں میں توقع ہوں نیا با تیم میوں میں اگتی ہوں میں انہیں ہے میں بیغریب ہوں میں یوسف ہوں اور میں موٹے ہوں۔میں داؤد ہوں۔میں بیٹی ہوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کائیں ظہر ائم ہوں یعنی نسلی طور پر میں محمد اور احمد ہوں " الوحی واضح ہو کہ یہ عبارت در اصل بہت ابتدائی زمانہ کی ہے اور ی ہونے و نزول مسیح میں اس کا صرت تکرار ہوا ہے۔یہ انبیاء سے افضل ہونے کے دعوئی پر مشتمل نہیں۔کیونکہ جس زمانہ میں پہلے یہ عبارت آپ نے لکھی۔اس میں آپ نے اپنی نبوت کو محدثیت کے مترادف قرار دیا تھا۔اس عباد کا مقصد صرف یہ بیان کرتا ہے کہ آپ ان انبیاء کی صفات خاصہ کے مظہر ہیں۔