الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 249 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 249

۲۵۰ مشتمل ہیں کہ آ نحضرت صلی <mark>اللہ</mark> علیہ وسلم کے <mark>بعد</mark> کوئی تشریعی <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> نہیں آسکتا۔اور نہ <mark>مستقل</mark> نہیں آسکتا ہے یعنی ایسا نہی جو براہ راست مقام <mark>نبوت</mark> حاصل کرے۔چشمہ معرفت ۳۲۵۰ پر آپ یہ بھی لکھتے ہیں :- لعنت ہے اس شخص پر جو آنحضرت صلے <mark>اللہ</mark> علیہ وسلم کے فیمین سے نفت نہ ہو کہ <mark>نبوت</mark> کا دعوی کرے مگر یہ <mark>نبوت</mark> آنہ کھلے <mark>اللہ</mark> اسلام کی حقانت اس کا مقصد بھی یہی ہے نا علیہ سلم کی بو سے نہ کوئی نئی <mark>نبوت</mark> پر نظام کی جائے۔اور آنحضرت علیہ وسلم کی سچائی دکھلائی جائے۔یسی مضمون اشتہار ایک <mark>غلطی</mark> کا <mark>ازالہ</mark> میں مذکور ہے جو <mark>اللہ</mark> کا ہے۔پس مفتی صاحب کے مزعومہ دوسرے دور اور تیسرے دور کی عبارتیں ایک ہی قسم کی <mark>نبوت</mark> کے ذکر پر مشتمل ہیں۔جو آنحضرت صلی <mark>اللہ</mark> علیہ وسلم کے ایک امتی کو آنحضرت صلی <mark>اللہ</mark> علیہ وسلم کے فیض سے ملتی ہے۔اس نیوت کا حامل نہ تشریعی <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> ہوتا ہے نہ <mark>مستقل</mark> نہیں۔بلکہ وہ ایک پہلو سے نہیں اور ایک پہلو سے اتنی بھی ہوتا ہے اور اس کی <mark>نبوت</mark> نئی نہیں ہوتی بلکہ آنحضرت کا ظل ہوتی ہے۔پس مفتی صاحب کی یہ غلط بیانی ہے کہ وہ اپنے مزعوم تعبیر سے دور کے بارہ میں لکھتے ہیں :- تیرا دور وہ تھا جس میں تاویل و تحریف سے بے نیاز ہو ر کھنے