الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 239 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 239

۲۴۰ البتہ ممتنع ہے۔روافع الوسواس فی اثر ابن عباس نیا ایڈیشن حکیم صوفی محمد حسین صاحب مصنف نمایة الرمان لکھتے ہیں۔الغرض اصطلاح میں نبوت بخصو میت اللہ خبر دینے سے ابیات ہے دو قسم پر ہے ایک نبوت تشریعی ہے جو ختم ہو گئی۔دوسری نبوت معنی خبر دادن وه غیر منقطع ہے۔پس اس کو مبشرات کہتے ہیں اپنے اقسام کے ساتھ اس میں پید یاد بھی ہیں نے مسلم پس جو نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مشبع شرع محمدی ہو یا بالفا بیا برگر آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کا اتنی ہو اس کا آنا ممتنع نہیں۔لہذا ایک قسم کی نبوت ایسی ثابت ہوئی جو نہ تشریعی ہے نہ مستقلہ بلکہ وہ امنی کی نبوت ہے لندا تعریف نبوت میں تبدیلی از بس ضروری ثابت ہوئی اور نبوت اور امنیت میں علی الاطلاق منافات نہ پائی گئی۔البتہ تشریعی نبوت اور ست قلعہ نبوت اور امنیت میں منا خواستند را در تناقض پایا جاتا ہے۔لعنوا اہل السنت کے علماء کا اتفاق اس بات پر ثابت ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی شریعت میدیدہ کے ساتھ یا با استقلال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بال کے بعد نہیں آسکتا۔امتی بنی ہونے کا بوجہ مشرع شریعت محمدیہ ہونے کے مکان ہے۔میں تعریف مذکور کے جامع ہونے پر اجماع امت ثابت نہیں۔اور نہ کیا اسی کو بنی ہو سکتا اس صورت میں علمائے اہل السنت کے جوع کے سلامت ہے۔نہیں مفتی صاحب کو حضرت بانیا سلسلہ احمدیہ کے اس دعوی کی بناء پر کہ آپ ایک پہلو سے بنی ہیں۔اور ایک پہلو سے اتنی غیر تشر بھی اپنی ہونے۔