الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 237
اور مراد اس سے صرف یہ لی ہے کہ آپ نے بنی کریمہ سے اللہ علیہ وسلم کی بیڑی لی کہ آپ کی او را خاصہ روحانیہ سے مقام نبوت حاصل کیا ہے نہ کہ براہ راست چنانچه آگے تحریر فرماتے ہیں :- فلا تهيج هُنَا غَيْرَةُ اللهِ وَلَا غَيرَةُ رَسُولِهِ قاتي أربى تَحْتَ جَنَاحَ النَّبِيِّ وَقَدَمِ هَذِهِ تخت اقد امر النبوية الاستفتا ضمير حقيقة الوالى ا ترجمہ :۔اس سے اللہ اور جوش میں نہیں آتی کیونکہ میں کی بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بادو کے نیچے تربیت پارہا ہوں اور میرا یہ قدم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں کے نیچے ہے۔پس اصطلاحی تعریف نبوت میں تبدیلی کرنے سے مفتی صاحب کو بھی کوئی چہار غیر اسلئے تعریف نبوت میں تبدیلی پر مفتی صاحب کو اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں کیونکہ اس تعریف میں یہ تبدیلی ان کے مزعوم مسیح موجود نبی اللہ کی آمد کے لئے ان کے نزدیک بھی ضروری ہوگی کیونکہ حدیث لا نبی بعدی کی موجودگی میں کوئی مستقل یا تشریعی نبی آنحضرت مصلے اللہ علیہ وسلم کے بعد نہیں آسکتا۔صرف ایسا نیا ہی آسکتا ہے ہو آپ کا امتی بھی ہو۔فقہار مولائے اہل استنت میں امام ملا علی القاری علیہ الرحمتہ کو یہ تصور تھا کہ امت کے اندرینی کا ہونا منافی خاتم النبین نہیں۔اسی لئے انہوں نے خاتم المنبر تین کے یہ معنی لکھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعیت کو منسوخ کر نیوان بنی اور ساقت سے باہر کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔موضوعات کبیر نہ ان ہی