الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 14 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 14

پھر توئی کا حفظ زندہ اٹھانے کے معنے میں کسی عربی زبان میں استعمال نہیں ہوا تو مسیح کے لئے کیوں نئی لغت بنائی جائے اور میں لفظ کے معنے محاورہ عرب میں وفات دینا میں اس کے معنے کیوں زندہ خاکی جسم کے ساتھ اٹھاتے کے کئے جائیں۔اگر یہ کہا جائے کہ ان کے لئے رفع الی اللہ کے الفاظ قران میں آئے ہیں تو یہ رفع کا لفظ توئی کے بعد با عزت وفات کے ذریعہ بلند درجات عطا کرنے کے لئے آیا ہے اور یہی خدا تعالے کا وعدہ تھا۔جیسا کہ آل عمران کی آیت کریمہ میں اللہ تعالے نے فرمایا ہے۔يجيلى إلى توقيت وَرَافِعُكَ الى - اسے عیسی میں تجھے وفات دینے والا ہوں اور اپنی طرف تیرا رفع کرنے والا ہوں۔میں مسیح کا جو رفع بل رفعه الله میں مذکور ہے وہ وفات کے بعد ہوا ہے۔جیسا کہ تمام انبیاء کا رفع وفات کے بعد ہوا ہے اور وہ سب کے سب بعد از وفات اپنے اپنے درجہ میں مرفوع ہیں۔اور سب سے بلند مقام رفع کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہوا ہے۔حضرت انس کی حدیث میں رفعہ اللہ کے الفاظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے انہیں معنوں میں استعمال ہوئے ہیں کہ اللہ تعالے نے آپ کو با عزت وفات دیگر آپ کے درجات کو بند کیا۔علیم اور محقیقین میں سے حضرت امام مالک علیہ علماء مخفقین کا مذہب الرحمہ نے فرمایا۔انه مات کہ حضرت عیسی علیہ السلام وفات پاچکے۔رمبو لین میں عافیہ آیت فلما توفیتنی