الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 228
۲۲۹ کیونکہ وہ اپنے تمام کمالات کا اتم اور اپنے طور پر یا اعتمل جامع ہوتا ہے اور اسی طرح یہ بھی جائز ہے کہ ہر کہیں بے شک محنت اپنی استعداد باطنی یہ کہ کے لحاظ سے بنی ہے۔آگے چل کر اسی صفحہ پر تحریر فرماتے ہیں:۔ولا شك أن التَّحْدِيث مَوْهَبَةً مجردة لا تُنَالُ تنال يكتب البقةَ كَمَا هُوَ شان البرة وم الله ال<mark>محدث</mark>ين كما يعلمُ النَّبين ديرسل المُحَدٍ ثِينَ كَمَا يُرْسِلُ الرُّسُلَ وَيَشْرَبُ المُعَدَّتُ مَن عَيْنٍ يَشْرَبُ فِيْهَا رحمامة البشرى منت ترجمہ : اس میں شک نہیں کہ تحدیث محض موہت ہے وہ کب سے بالکل حاصل نہیں ہوتی جیسے نبوت کا حالی اور اللہ تعالے <mark>محدث</mark>ین سے اسی طرح کام کرتا ہے جس طرح <mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark>وں سے کلام کرتا ہے اور وہ <mark>محدث</mark>ین کو اسی طرح بھیجتا ہے جس طرح رسولوں کو بھیجتا ہے اور <mark>محدث</mark> بھی اسی چشمہ سے پیتا ہے جس سے بنی پیتا ہے پس بلاشک وہ بنی ہے اگر نبوت کا دروازہ بند نہ ہو۔<mark>اصطلاح</mark>ی تعریف نبوت سے ظاہر ہے کہ صرف تشریعی اور سنت نبوت کا دروازہ بند ہے۔غیر تشریعی اتنی نہی کے لئے دروازہ بند نہیں۔گوڑہ