الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 207
or میں آئے گا جو طبع اور قوت اور اپنے منصبی کام میں کیسے ابن مریم کا ہرنگ ہو گا۔اور عبیا کہ مسیح ابن مریم نے حضرت موسیٰ کے دین کی تجدید کی اور وہ حقیقت اور مغز، تو رات کا میں کو نیو دی لوگ بھول گئے تھے ان پر دوبارہ کھول دیا۔ایسا ہی درسی شانی شیل مونے کے دین کی جو جناب ختم الانبیاء صلے اللہ علیہ وسلم ہیں۔تجدید کرے گا۔اور یہ مثیل موسے کا مسیح اپنی سوانح میں اور دیگر نتائج میں جو قوم پر ان کی سرکشی کی حالت میں ٹوٹر ہوں گے اس سیح سے بالکل مشابہ ہوگا۔جو موسے کو دیا گیا تھا۔اب جو امر کہ خدا تعالے نے مجھ پر منکشف کیا ہے۔وہ یہ ہے کہ دہ مسیح موجود ہیں ہی ہوں۔(ازالہ اوہام حصہ اول ملت) اس عبارت میں تجدید دین محمدی یعنی مجدد ہونے کا دعوی بھی موجود ہے اور مسیح موعود ہونے کا دعوی بھی موجود ہے۔پھر ان الله او نام حد اقل منہ پر تقریر فرماتے ہیں کہ آپ کا مسیح موعود کا دعونی ازالہ اوہام سے پہلی کتابوں فتح اسملالہ تو تین مرام میں بھی موجود؟ چنا نچہ آپ نے اس جگہ تحریر فرمایا ہے :- ہم نے جو رسالہ فتح اسلام اور توضیح مرام میں اپنے اس کشفی اور الهای امرکو شائع کیا ہے کہ مسیح موعود سے مراد کسی عاجز ہے میں نے سنا ہے کہ بعض ہمارے علماء اس پر برا فروختہ ہوئے ہیں نہ مجید کے دھونی کے متعلق ازالہ اور اس کا ایک اور واضح حوالہ ملاحظہ ہوں۔