الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 198
199 کے دعووں سے متعلق مرزا صاحب کے تعداد میں اگر کوئی معقولیت اور تطبیق پیدا کی جاسکتی ہے تو صرف اس طرح کہ ان کو مختلف ادوار عمر اور مختلف زمانوں سے متعلق قرار دیا جائے۔جس میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مسئلہ میں مرزا صاحب پر تین دور گزرے ہیں۔اس تمہید کے بعد تین ادوار کا ذکر یوں کرتے ہیں :- اس تمہید سے نتھا جب مرزا صاحب سب مسلمانوں کی طرح مسلمان تھے پہلا دور اور امت کے اجماعی عقائد و نظریات کو جلا کسی تاویل و تحریف کے تسلیم کرتے تھے۔اور ایک مبلغ اسلام کی حیثیت سے کچھ نہیں کھتے تھے۔دوسرا دور وہ تھا جس میں انہوں نے کچھ دھوے شروع کئے اور ” ان میں تدریج سے کام لیا۔مجرد ہوئے۔مہدی نے یہانتک کہ سیح موعود ہے۔یہاں پہنچ کہ یہ خیال آنا ناگزیر تھا کہ مسیح موعود تو اللہ کے اولو العزم رسول دینی اور صاحب وحی تھے۔عقیدہ ختم نبوت کے ہوتے ہوئے کسی نئے شخص کا مسیح موعود بنا تو ختم نبوت کے خلاف ہے اس وقت انہوں نے ختم نبوت کے معنی میں تخریف میں شروع کیں نبوت کی خود ساختہ چند تمہیں تشریعی غیرہ ہیں۔علی بروزی - نقومی اور مجازی بنا کر ختم نبوت کے عموم و اطلاق کو توڑنا چاہا۔اور اپنے مرحومہ اقامہ نبوت میں سے بعض قسموں کا بعد وفات