الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 197 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 197

19^ ایک مقدمہ لکھا ہے جس میں انہوں نے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ پر متعدد الزامات لگا کر آپ کے خلاف غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔تا اس مقدمہ کے ذریعہ اصل بحث کے پڑھنے سے پہلے ہی آپ کے خلاف اپنی کتاب پڑھنے دانوں کے ذہنوں کو اس طرح مسموم کردیا جائے کہ خاتم النبتین کے اصل مبحث کی گہرائی میں نہ جا سکیں۔اور ان کی ہاں میں ہاں ملانے کے لئے تیار ہو سکیں۔مگر ساری دنیا ایسی نہیں ہو سکتی کہ وہ اصل حقیقت کو سمجھنے سے آنکھیں بند کرلے اور اندھا دھند مفتی صاحب کے خیال کی یں کیا کیا اور دادا دادن منی صاحب کے خیال تائید میں لگ جائے۔ہم نے ان میں سے ایمان کے مقدمہ کے متعلق اپنی محبت کو تنقید کتاب کے آخر میں بطور خاتمة الکتاب کے پیش کر رہے ہیں۔مفتی صاحب کے مقدمہ کو پڑھنے والا ہر شخص جو کتب مسیح موعود علیہ السلام سے واقفیت رکھتا ہے ادنی قاتل سے اس نتیجہ پر پہنچ جاتا ہے کہ مفتی صاحب نے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی ان کتب کا کبھی مطالعہ نہیں کیا جن کے حوالہ جات انہوں نے اپنے مقدمہ میں پیش کئے ہیں۔اور انہوں نے مخالفین اور بعض موافقین کی کتب سے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی کتب سے درج شدہ حوالہ جات کو اخذ کر کے اپنے مقدمہ کی عمارت قائم کی ہے چنانچہ انہوں نے حضرت ہائی سلسلہ احمدیہ کی زندگی کے تین دور بیان کئے ہیں ان ادوار کے بیان سے پہلے ان کے مضمون کی مفید یوں ہے:۔ختم نبوت کے اقرابہ دانشکانہ اور ختم نبوت کے معنی اور نبوت اور وجی