الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 192
۱۹۳ بالجنة الاني كُنْتُمْ تُوعَهُ وَن - تحد اولياءكم في الحيرة الدنياء في الأخيرة ومكم فيها ما وَتَكُمْ الفتح الفُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مادة لون مره من غَفُورٍ رحيم وحم سجده : ۳۲۳۱) ترجمہ۔بے شک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے اور پھر اس پر استقامت اختیار کی ان پر خدا کے فرشتے نازل ہوتے ہیں کہ تم کوئی خوف نہ کرو اور ننگین ہو اور اس جنت کی بشارت پاؤ جس کا تم دغدہ دیئے گئے ہو۔ہم دنیا اور آخرت میں تمہارے مدد گار ہیں اور تمہارے لئے اس میں ہے جو کچھ تم چاہو اور تمہارے لئے اس میں ہے جو کچھ تم مانگو۔اس مال میں کہ وہ جسمانی ہو گی مخفور اور رحیم خدا کی طرف سے۔ملائکہ کے ذریعہ یہ کلام جو دین میں استقامت اختیار کرنے والوں پریان ہوتا ہے اسے وخل نفس اور دخل شیطان سے اس لئے پاک سمجھنا ضروری ہے کہ خدا تھا لئے اس آیت کے مضمون کو ان کے لفظ سے شروع فرماتا ہے ہو مضمون حملہ کے یقینی ہونے کے متعلق استعمال ہوتا ہے۔حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربی علیہ الرحمہ ملائکہ کی اس تنزیل کو نبوت عامہ یعنی نبوت الولایت قرار دیتے ہیں۔چنانچہ وہ اس آیت کی تفسیر میں باب معرفة الاستقامتہ کے ذیل میں لکھتے ہیں :۔هذا التَّنْزِيلُ هُوَ التَّبوة العامة لأسرة التشريع۔ر فتوحات میکنه جلد ۲ ۲ باب معرفة الاستقام