الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 186
Inc حضرت رسول کریم سے <mark>اللہ</mark> علیہ وسلم نے امت <mark>محمد</mark>یہ کے مسیح موعود کی شان میں <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> <mark>اللہ</mark> کے الفاظ اسی لئے ارشاد فرمائے ہیں کہ اس کے فصیلوں کو دخل شیطان سے منزہ کیا جائے اور بلا حیل و محبت قبول کیا جائے جمعیت رسول کریم صلے <mark>اللہ</mark> علیہ وسلم کے <mark>بعد</mark> <mark>اللہ</mark> تعالے نئے اسلام کی تازگی اور اس کی سنجیدیہ کے لئے مجددین کا سلسلہ شروع کیا جو محدث ہونے کی وجہ سے خدا کی ہمکلامی سے مشرف ہوتے ہیں۔چنانچہ حدیث نبوی میں آیا ہے إنَّ اللهَ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأسِ كُل مانة سَنَةٍ عَنْ يُجَل دُ لهَا دِينَهَا - ر رواه ابوداؤد) کہ <mark>اللہ</mark> تعالیٰ ہر صدی کے سرے پر ایسے شخص کو مبعوث کرتا رہے گا جو اس امت کے لئے اس کے دین کی تجدید کرے گا۔پس اگر ایسے مجددین کے الہامات دخل نفس و شیطان سے منزہ نہ ہوں تو <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> اور رسول کی ہوگی سے بھی امان اُٹھ جاتا ہے۔<mark>اللہ</mark> تعالیٰ نے قرآن مجید میں شیطان کو مخاطب کر کے فرمایا ہے۔ان عِبَادِي لَيسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلطن - وسورة الحجر :۳۳) کہ <mark><mark>میرے</mark></mark> بندوں پر تجھے غلبہ حاصل نہیں ہو گا۔پس اگر شیعان خدا کے ان پیارے بندوں پر وحی نازل ہونے کے وقت دخل اندازی کرے تو وہ دخل اندازی کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا، کیونکہ یہ خدا تعال کا حتمی فیصلہ ہے کہ شیطان اس کے فرمانبرداروں پر غالب نہیں آسکتا۔<mark>اللہ</mark> تعالی قرآن مجید