الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 187 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 187

میں فرماتا ہے :۔IAA ما او سلنا مِن قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ وَلَا نَبِي إِلَّا إذا تمنى القى الشيطن في أمنيته فينصح الله ما ينقي الشيطن - سورة البر (٥٣) ترجمہ : ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول ، در بنی نہیں بھیجا ملا جب اس نے تمنا کی تو شیطان نے اس تمنا میں دخل اندازی کی کوشش کی۔پی خدا شیطان کی دخل اندازی کو مٹا ڈالتا ہے۔صحیح بخاری کی ایک حدیث ہیں اس آیت کی دوسری قرات میں درد نبی کے بعد ولا محدیث کے الفاظ بھی وارد میں پس محترت جو سردین میں سے ہو اس کی دمی کو بھی دخل شیطان سے انبیاء اور رسل کی طرح منزہ کر دیا جاتا ہے گویا ان کی دھی بھی یقینی ہوتی ہے مشکوک نہیں ہوتی۔مجتہدین کے علاوہ جو اولیاء اللہ ہیں ان کے دلدامات وکشون کو بھی معنی اس وجہ سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ وہ غیر معصوم ہیں۔اصطلاحی طور پر گو وہ نبیوں کی طرح معصوم نہ ہوں لیکن قرب الہی پانے کے بعد وہ ایسے مقام پر پہنچ جاتے ہیں جس سے وہ شیطان کا غلبہ پان سے محفوظ ہو جائی یں ان کے الات سے بھی استفادہ کیا جا سکتا ہے اور ان کے الات و کشوف کو بھی خالی از افاده قرار نہیں دیا جا سکتا۔جبکہ وہ صریح پر کسی نفس کے خالت نہ ہوں۔اور نصوص قرآنیہ م دینیہ اور لعنت عرب ان کی تقسیمات کی مویدہ ہوں لیکن حکم و عدل کے انعامات اور کشوف قرآن و حدیث کے خلاف ہو ہی نہیں سکتے۔شیطان صرف اپنے