الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 181
جسمانی اور مادی امور کو روحانی امور کے سمجھنے کے لئے بطور شواہد اور لائل استعمال فرمایا ہے۔چنانچہ قرآن مجید میں اللہ تعالے لئے بہت سماری امور کی قسمیں کھا کر ان کو رومانی امور پر مشاہد قرار دیا ہے۔اگر جہانی اور روحانی امور میں تطابق نہ ہوتا تو کبھی اللہ تعالے مادی امور کور چانی امور کے شواہد کے طور پر پیش نہ کرتا۔مزید برآں اللہ تعالے نے سورہ مومنون کے شروع میں کچھ جانی امور سیلان فرماتے ہیں:۔نماز میں خشوع کرنا ۲ نفر امور سے اعراض کرنا ول لكرة ادا کرنا۔alisl شرمگاہوں کی حفاظت کرنا امانتوں اور محمد کا خیال رکھنا۔نمازوں کی حفاظت کرتا ان چھ روحانی تبدیلیوں کے بعد انسانی پیدائش کی چھے مادی تبدیلیوں کو بالمقابل بیان کیا ہے اور انسان کے خلق آخر کا ذکر کیا ہے اور اسے احسن الخالقین ہونے پر دلیل ٹھمرا یا ہے۔پھر اس کے بعد بادی نعمتوں ٹھٹھرایا کا ذکر کیا ہے تا انسان روحانی ترقیات کی طرف متوقہ ہو۔پھر ایک مقام پر اعقد تعا لیٰ فرماتا ہے : ون في خلق السموات والأَرْضِ وَاخْتِلَاتِ البَلِ