الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 182 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 182

وَالنَّهَارِ لايت لأدنى الْأَلْبَابِ الذِينَ يَذْكُرُونَ الله قياماً وقُعُودًا وَعَلَى جُنوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ في خلق السموتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتُ هذا باطلا، سُبحَنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔ر آل عمران : ۱۹۱ ۱۹۲) ترجمہ: بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات اور دن کے آنے میں عقلمندوں کے لئے بہت سے نشان ہیں۔وہ (عقلمند) جو کھڑے بیٹھے اور اپنے پہلوؤں پر اپنے اللہ کو یاد کرتے ہیں۔اور زمین و آسمان کی پیدائش میں غور و فکر سے کام لیتے ہیں یہ کہتے ہوئے کہ اے ہمارے رب تو نے اسے بے فائدہ پیدا نہیں کیا۔تو پاک ہے ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔یعنی ہماری زندگی کو بے مقصد ہلنے سے بچا دے۔ان آیات سے ظاہر ہے کہ کائنات کے مادی انقلابات اور تخلیق میں غور کرنے سے مومنوں کو روحانی انقلابات کے برحق ہونے پر بہت سے لائل ملتے ہیں۔چونکہ دلائل اور مدلولات میں تطابق بھی ضروری ہوتا ہے۔لہذا اس آیت میں کائنات کے انقلابات اور تخلیق کو روحانی انقلابات اور روحانی تخلیق پر نشان قرار دیا گیا ہے۔اگر ان میں تطابق کتی نہ ہوتا تو ایک دوستر پر دلیل کیسے ہو سکتا۔اور روحانی امور کو سمجھنے کے لئے مادی امور میں فکر کرنے کی کیوں ہدایت کی جاتی۔صاف ظاہر ہے کہ مادی مور اور روحانی امور میں ضرور گھرار البطہ ہے جس پر غور کرنے سے بہت سے رجانی امو کھیل جائیں۔