الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 179 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 179

A کرتے ہیں۔ہم انہیں اپنے۔اسنے دکھا دیتے ہیں۔یہ آیت بھی پاک دل کے ساتھ قرآن کریم میں غور کرنے کا معیار بیان کرتی ہے۔اس آیت کے گرد سے بھی مجاہدہ نفس کے بغیر حقائق و معارف قرآنیہ کا علم حاصل نہیں ہوتا۔ورنہ ہر شخص اپنے اجتہاد کو تفسیر القرآن قرار دے نے گا۔خواہ وہ تفسیر بالرائے ہی ہو۔دیکھئے مفتی صاحب : آپ نے کیا کام کیا ہے۔آپ نے صراط الله العزیز کی ختم نبوت کامل کے منہ پر جو تفسیر کی ہے وہ آپ کی نیت تغیر نہ ہونے کی وجہ سے کس قدر غلط ہے۔آپ نے سراط اللہ العزیز سے مراد صراط مستقیم نہیں کیا بلکہ وہ راہ مراد لی ہے گویا جس پر خدا چلتا ہے۔وال تو یہ آیت اس طرح نہیں میں طرح مفتی صاحب نے لکھی ہے قرآن کریم میں اس مضمون کو رد و آیتیں یوں ہیں۔اول سورۃ ابراہیم میں وارد ہے كتب إلى النور الريناة إِلَيْكَ لِتُخْرِينَ النّاسَ مِنَ اللّا باقات وتهم إلى ميرا في المدير تحميل۔یعنی یہ کتا ہے جیسے ہم نے تیری طرف آتارا ہم ہے تا کہ تو تمام لوگوں کو اپنے رب کے حکم سے ظلمات سے نکال کر اپنے رب کی طرحت لے آئے۔یعنی غالب اور تعریفوں والے خدا کے راستہ کی دارت۔س آیت سے ظاہر ہے کہ عزیز اور حمید خدا کے راستہ سے مراد کتابد یعنی قرآن سید کا راستہ ہے جو لوگوں کو ظلمات سے نور کی حرمت بیجا نے کے لئے تجویزہ ہوا ہے۔نہیں مراد اس سے صراط مستقیم ہی ہے۔دوسری آیت سورہ نساء میں وارد ہے۔وتیری الذين أوتوا العلم