الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 166
145 نافذ نہیں ہوگی جبکہ وہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی شریعیت پر ہی خود بھی چلیں گے اور بنی اسرائیل جبکہ تمام امت محمدیہ کو بھی چلائیں گے۔تو ان کا سابقہ نبوت تشریعی سے معزول ہونا لازم آیا کیونکہ یہ محال ہے کہ ایک تشریعی بنی قوم میں موجود بھی ہوا درہ اپنی نبوت تشریعیہ کا نفاذ نہ کرے۔کیونکہ یہ امر نبوت سے معزول ہونے کے مترادف ہے۔اور نبی کا اپنی نبوت سے معزول ہونا محال ہے۔صحیح مسلم کی حدیث نبوی میں مسیح موعود کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چار دفعہ بنی اللہ قرار دیا ہے اور ان پر وحی نازل ہونے کا بھی ذکر فرمایا ہے اور کیونکہ وہ بقول سختی صاحب بنی ہوں گے لہذا ان کی اپنی دھی کا بھی امت میں نفاذ ہو گا اس لئے وہ امت میں اون ڈیوٹی بنی قرار پائیں گے نہ کہ غیرینی امام ! مسیح موعود علیہ السلام بے شک امت محمدیہ میں امام بھی ہیں جیسے کہ ہر بنی امام ہوتا ہے۔وہ غیر بنی امام کی حیثیت میں امام نہیں۔کیونکہ وہ نبی ہیں۔اور ان کا بعد نزول بنی ہوتا مفتی صاحب کو مسلم ہے۔اس مفتی صاحب کا زیر بحیث بیانی بالکل غلط اور ایک دور از کار حیلہ ہے۔ا سوا اس کے حدیث لا نبی بعدی یہ نہیں بتاتی کہ پہلا بنی تو آپ کے بعد اس صورت میں آسکتا ہے کہ وہ بنی تو ہو۔نبوت سے معمول بھی نہ ہو۔اور نبوت کے فرائض بھی ادا نہ کرے۔ایسے بنی کا بھیجنا خندا کی شان کے منافی ہے۔اگر آئندہ سنی کی ضرورت نہیں تھی تو خدا تعالئے ایک غیر بنی امتی سے بھی اہمت کی امامت کا کام کے سکتا تھا۔پس بفرض محال اگر حضرت کیلئے