الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 123 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 123

۱۲۴ مہر سے <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> بننے کے معنی مفتی <mark>محمد</mark> شفیع صاحب پر واضح ہو کہ حضرت کی ٹھوس بنیاد مولانا <mark>محمد</mark> قاسم صاحب کے معنی ایک ٹھوس بنیاد پر مبنی ہیں اور وہ ٹھوس بنیاد آیت <mark>خاتم</mark> ال<mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark>ن کا سیاق کلام ہے۔اس بارہ میں مولانا<mark>محمد</mark> قاسم صاحب کے بیان کا حوالہ ہم پہلے دے چکے ہیں۔انہوں نے بتایا ہے کہ آیت تما کان <mark>محمد</mark> أبا أَحَدٍ مِنْ رِجَ الكُمْ میں آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی ابوت جسمانی کی کسی مرد کی نسبت سے نفی کی گئی ہے اور کک مان رسولی الله وعالم اللبن کے الفاظ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت کا روحانی باپ قرار دیا گیا ہے اور <mark>خاتم</mark> ال<mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark>ن کے الفاظ سے آپ کو انجیار کا باپ قرار دیا گیا ہے۔اب کے معنی از روئے لغت عربی مفردات القرآن خود مفتی صاحب نے کسی شئی کی ایجاد و ظہور کا سبب تحریر کئے ہیں۔چنانچہ وہ اپنی کتاب ختم نبوت کامل کے مارنے کے پر حوالہ کے دن ہے مفروات القرآن سیکھتے ہیں:۔ريمى كلاً مَنْ كَانَ سَبَبًا فِي الْهَادِشَى او ظهور آیات یعنی ہر اس شخص کو باپ کہا جاتا ہے جو ایک شئی کی ایجاد اور اس کے ظہور کا سبب ہو۔آیت ہذا کے سیاق سے ظاہر ہے کہ <mark>خاتم</mark> ال<mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark>ن کے الفاظ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark>وں کا <mark>خاتم</mark> کا ا<mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark>اء کے لئے آپ کی