الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 120
۱۲۱ بالذات کا اثر مو صوت بالعرض میں ہو گا " تحذیر الناس (٣) خاتم کے ان معنی کے لحاظ سے مولانا محمد قاسم صاحب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو آیت خاتم النبین کے پیش نظر بالذات قرار دیتے ہوئے باقی تمام انبیاء کی نبوتوں کو بالعرعن قرار دیتے ہیں اور خاتم النبیین کا مفہوم یہ بتاتے ہیں کہ اوروں کی نبوت تو آپ کی نبوت کا فیض ہے۔پر آپ کی نبوت کسی اور نبی کی نبوت کا فیض نہیں، (تحذیر الناس قدم ) انی معنے کے رو سے مولانامحمد قاسم صاحدی نے آئندہ کے متعلق یہ لکھا ہے کہ بالفرض اگر بعد نماز نبوی صلی اللہ علیہ وسلم بھی کوئی نبی پیدا ہو تو خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہیں آئیگا : التحذیر الناس منت حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے بھی خاتم النبین کی تر کو افاضہ کمال کے لیئے قرار دیا ہے اور اس کا مفہوم یہ بتایا ہے کہ آپ کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے اور آپ کی تو یہ روحانی بنی اتراش ہے۔یہ قوت قدسیہ کسی اور نی گوندیں ملی حقیقة الوحی حاشیه شش گویا آنحضرت صلے اللہ عید یکم کی خاتم روحانی کا اثر آنحضرت صلی اللہ علیہ کم کے ظہور کے بعد بھی کسی بنا کے پیدا ہونے میں مائع نہیں یہ اثر ہونا بھی وائٹی چاہیئے کیونکہ آنجہ سے علی الہ علیہ و سلم دائما خاتم النبین ہیں۔علمائے دیوبند میں سے مولانا محمد قاسم صاحب کے علاوہ مولوی منو اکسین صاحب کو بھی خاتم النی تین کے معنی انبیاء مسابقین کے لئے مر سے نہیں بننے کے