الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 3
ابوت دو قسم پہ ہے ایک ابوت جسمانیہ (سمیه درضا عید) جس پر احکام حرمت وصلت کے دائر ہوتے ہیں۔جس کی وجہ سے بیٹے کی بی بی حرام ہو جاتی ہے وغیرہ ذلک اور دوسری ابوت روحانیہ جس پر احکام حرصت و حالت دائر نہیں ہوتے البتہ اولاد کی جانب سے تنظیم اور باپ کی جانب سے شفقت کی مثل مصلبی اویسی ہی باپ کے ملکہ اس سے میں کہیں زائد میں ا ضروری کے لئے یا پسر کی مرید کے لئے ہے جیسے استاد کی ابوت کے لئے۔پس آیہ کریمیہ ما کات یارسوں کی اپنی ساری محمد أبا أَحَدٍ مِنْ رِجَال تر میں پہلے معنوں سے ابوت کی نفی کی گئی ہے اور ولکن رسول اللہ میں دوسری منے سے تو بندہ کا اثبات کیا گیا ہے" (ص) اس سے پہلے یہ سمجھتے ہیں :- پہلے جملہ میں یہ بتلایا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کسی مرد کے باپ نہیں اس پر سرسری نظر میں چند شبہات پیدا سو سکتے نے ہیں ان کے ازالہ کے لئے یہ دوسرا جملہ لفظ لکین لفظ لغت عرب میں اسی لئے وضع کے ساتھ فرمایا ہے کیونکہ یہ کیا گیا ہے کہ پہلے کلام میں جو شیعہ ہوتا۔ہوتا ہے اس کو دفع کرتے آگے تین شبہات لکھتے ہیں :- پیر