الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 107 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 107

ہونے کا دروازہ بند ہے۔پس حدیث لم يبق من السبورة الا المبشر صرف صوت مستقلہ یا نبوت تشریعیہ کا انقطاع قرار دیتی ہے۔اور امتی نبی پر المبشرات والی وحی کا نزول جائز رکھتی ہے اور اس کی تشریح میں حدیث نبوی میں المبشرات کو رویا کے مصالحہ عام مومن کے لحاظ سے قرار دیا گیا ہے مسیح موعود پر جو وحی نازل ہونے والی تھی وہ المبشرات والی وحی ہے۔لہذا انمیش است نبوت تشریعیہ کی جیز و ذاتی ہے اور ثبوت تشریعیہ اس کی جنہ و عارض ہے۔اس ساری بحث سے مفتی صاحب کی وہ مثالیں پادر ہوا ہو جاتی ہیں جوانہوں نے اس حدیث کے رو سے نیوست کا کلی انقطاع ثابت کرنے کے لئے بڑی تعلی سے پیش کی ہیں اس حدیث میں کل اور بہو کی نیت مکان اور اینٹ والی نہیں اور نہ پلاؤ اور نمک والی ہے اور نہ کپڑے اور ناگا والی اور نہ چار پائی اور رستی والی اور نہ پانی اور ہائیڈروجن یا آکسیجن والی کیونکہ المبشرات نبوت کی جو ذاتی یعنی نبوت مطلقہ ہیں اور نبوت کے ساتھ جب شریعت جدیدہ لاحق ہو تو شریعیت نبوت کی جدو عارض ہوتی ہے۔اسی نبوت مطلقہ کے ساتھ مسیح موعود کے امت محمدیہ میں آنے پر دوسری حدیث نبوی میں اسے بنی اللہ قرار دیا گیا ہے اور اس پہ نزول وحی بھی مصدومیت میں مذکور ہے جو نبوت باقی نہیں رہی اس کے ساتھ مسیح موعود نہیں آسکتا نبوت کی ہر جز رباتی ہے وہ از روئے حدیث نبوی المبشرات ہیں اپنی کا حامل ہونے کی وجہ سے میسیج موجود بنی اللہ ہے جو ہو۔نبوت باقی نہیں رہی