الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 102 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 102

قرار دیا ہے۔لہذ اسیح موعود بھی اس حدیث کی روشنی میں المیشی شد والی دھی پانے کی وجہ سے ہی نبی اللہ کہنا سکتا ہے۔مسیح موعود مستقل نبی یا تشریعی نہی کی حیثیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ کو علم کے بعد نہیں آسکتا۔بلکہ نبی اللہ ہونے کے ساتھ اس کا آنحضرت سلے اللہ علیہ وسلم کا اتنی ہونا بھی ضروری ہے اور اس کے لئے رسول کریم مسلے اللہ علیہ وسلم کا وجود محافظ شریعت مع عفونیہ آخری مستند ہو گا۔پس اس حدیث کی ترکیب ليَبنَ مِنَ الطَّعَامِ إِلَّا الخبر کی طرح ہے۔کھانے میں سے روٹی کے سوا کچھ باقی نہیں رہا۔ظاہر ہے کہ روٹی کھانے کا حصہ بھی ہے اور خود کھانا بھی ہے کیونکہ یہ کھانے کا جزر و ذاتی ہے۔اسی طرح المبشرات بنوت تشریعیہ کا حصہ بھی ہیں اور نبوت کا جز و ذاتی ہونے کی وجہ سے خود بنبوت بھی ہیں۔تمام غیر تشریعی انبیاء المعشرات یعنی امور غیبیہ پر اطلاع پانے کی وجہ سے ہی نبی کہلاتے رہے۔اس سے معلوم ہوا کہ نبوت کی جود ذاتی یا بالفاظ دیگر نبوت مطلقہ المبشرات ہی ہیں۔بے شک المبشرات سے حصہ میجر جب حدیث نبوی بصورت رویا صالحہ مومنین کو بھی ملتا ہے۔مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ کسی امتی کو بھی مشرف مکالمہ مخاطبه الیه و کشت و الہام سے مشرف نہیں کیا جاتا۔امت محمدیہ کے مسیح موجود مسیح مسلم کی حدیث میں جو تو اس میں سموات سے باب ذکر الدجال میں مذکور ہے وحی کے نازل ہونے کا سافت ذکر موجود ہے اور علماء امت نے یہ تسلیم کیا ہے۔