الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 101
I+M میں باقی قرار دیا ہے۔اس سے نظاہر ہے کہ المبشرات نبوت کی جودو ذاتی ہیں۔اور امت میں جس نبی کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک امکان ہے وہ میں اسی جو فرائی کے پانے کی وجہ سے نبی کہلائے گا۔نئی شریعیت جب نبوت کی اس چیز و ڈائی کو لاحق اور فارم ہو تو ایسی کا حامل بوجہ شریعیت جدیدہ تشریحی مصلے نبی قرار پاتا ہے۔چونکہ امام عصر علیه و سلم شریعت جدیده نام کامل مستقاد الی یوم القیامہ لانے والے بنی ہیں۔اس لئے آپ کے بعد کوئی تشریحی۔کے بعد بنی نہیں آسکتا۔تشریحی نبوت حدیث بنا کے الفاظ لم يبق کے ذیل میں آکر منقطع ہو گئی ہے۔چونکہ اس حدیث میں المبشرات کے اتنی کو ملنے کا وعدہ ہے اس لئے یہ امر بھی اس حدیث سے ثابت ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی مستقل نبی بھی نہیں آسکتا۔چنانچہ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں : امتنع أن تَكُونَ بَعْدَهُ نَبِى مُسْتَقِل بالتلقي والخیر تکثیر مست میوه بجنون کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی مستقل شریعیت پانیوالا اپنی نہیں آئے گا۔نیروه مندرجہ بالا حدیث کی روشنی میں فرماتے ہیں :۔لاَنَّ النبوَةُ تَتَجَرى وَجَزْهُ مِنْهَا بَات بَعْدَ خَاتَم الانبياء و الموی شرح موطا جلد ۲ ۲۱۶۵ مطبوعہ دہلی) مل کہ نبوت قابل انقسام ہے اور اس کی ایک جید وخاتم الانبیاء کے بعد باقی ہے۔امت محمدیہ کے مسیح موعود کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نبی اللہ