الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 91 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 91

۹۳ إنَّما أمره إذا أَرَادَ شَيْئًا ان يَقُولُ لَهُ كُن نیکون - رسوره لین : ۸۳) کہ خدا کا امر یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کے پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کہتا ہے کسی عدم سے وجود میں آ نیکون - تو وہ پیدا ہو جاتی ہے۔اگر آیت خاتم النبین کے رُو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے۔بعد کوئی نبی پیدا نہ تا تو آنحضرت صلے اللہ کا مردم را کہا ہم نے ان سے افضل نہیں رہتی کنکر یہ ہ فرماتے کہ ابو یکہ امت سے افضل الا ان کوئی تو مفتی صاحب نے اس حدیث کو اپنی کتاب میں درج نہیں کیا۔البتہ اس مضمون سے ملتی جلتی دو حدیثیں اپنی کتاب کے منہ پڑا ہو کر کے ان کا ترجمہ بگاڑ کی پیٹیں کیا ہے۔وہ دو حدیثیں درج ذیل ہیں :- حدیث دوم ان میں پہلی کے الفاظ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہ ابو بَكْرٍ خَيْرُ النَّاسِ إِلَّا أَن تَكُونَ نَبِى - یعنی بود یک سب لوگوں میں سے بہتر ہیں سوائے اس کے کہ کوئی بھی پیدا ہو۔(تو اس سے بہتر نہیں حدی سوم اے اور دریا میں اور ہے کہ سول للہ صلی الہ علیہ سم نے فرمایا: ابو بكر خَيرُ النَّاسِ بَعْدِى إِلَّا أَن يَكُونَ نَبِيُّ۔