الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 281
اور ان حدیثوں کو قبول کرے جو قرآن کے مطابق ہیں اور اس کی وحی کی مخالفت نہیں۔اس محولہ انقیاس کے آگے وہ عبارت ہے جسے مفتی صا دئیے ہوا لہ اعجاز احمد یتی ہے پیش کیا ہے اب اسے اس عبارت سے ملا کر پڑھیں تو اس میں کوئی بات نہیں نہیں جو احادیث صحیحہ نبویہ کی توہین پشتمل ہو۔پھر تحریر فرماتے ہیں:۔یہ کمال درجہ کی بے نصیبی اور بھاری غلطی ہے کہ مکلفت تمام حدثون کو ساقط الاعتبار سمجھ لیں۔۔۔۔۔۔یہ بات پوشیدہ نہیں کہ مسیح بن مریم کے آنے کی پیشگوئی ایک اول درجہ کی پیش گوئی ہے جس کو سب نے بالاتفاق قبول کر لیا ہے۔( از امداد ام عبد ال احادیث نبویہ کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام احادیث بار میں کا اصولی بیان جس کی جماعت کو تلقین کرتے ہیں ہے، کہ۔اصولی بیان تیسرا ذریعہ ہدایت کا حدیث ہے کیونکہ بہت سے اسلام کے تاریخی اور اخلاقی اور فقہ کے امور کو مد یہیں کھونکر بیان کرتی ہیں۔نیز بڑا فائدہ حدیث کا یہ ہے کہ وہ قرآن کی خادم اور سنت کی خادم ہے۔۔۔۔۔۔۔۔سنت اس عملی نمونہ کا نام ہے جو ایک مسلمانوں کی عملی حالت میں ابتداء سے چلا آیا ہے جس پر ہزار ہا مسلمانوں کو لگایا گیا۔ہاں حدیث بھی اگرچہ اکثر حصہ اس کا طن کے مرتبہ پر ہے مگر بشرط عدم تعارض قرآن و