الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 158
۱۵۹ جبکہ خدا تعالے کی مسلمانوں کو ہدایت تھی کہ لا تَكُونُوا كَالَّذِين نروا واخْتَلَفُوا مِن بَعْدِ مَا جَاءَ هم البينت - (آل عمران (۱۵) کہ ان لوگوں کی طرح ہوجاتا جو فرقہ فرقہ ہوگئے اور انہوں نے اختلاف کیا بعد اس کے کہ ان کے پاس کھلے کھلے دلائل آگئے۔کتے ہیں :- مفتی صاحب کے مر سے نبی مفتی صاحب نے خاتم النبین کی خاتم روحانی ننے پر اعتراضات کے جوابات کے فیض سے اتنی کے نبی نے پر بعض اعتراضات پہلا اعتراض ہے کہ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ کسی کو نبی بنانا رسول الله صل الله علیہ وسلم کے اختیار میں ہے کہ میں پر آپ چاہیں نبوت کی مہر لگا دیں۔حالانکہ ارسال رسل والعبادصرف حق تعالیٰ ہی کا کام ہے۔رختم نبوت کامل مشت) الجواب :۔اس کے جواب میں واضح ہو کہ مفتی صاحب کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ہم بھی یہی مانتے ہیں کہ نبی خدا ہی بناتا ہے۔مگر خدا تعالے نے آپ کی عظمت روحانیہ کو قائم کرنے کے لئے آپ کو سب انبیاء اور مخلوق سے پہلے خاتم النبین بنا کر بطور نا تم روحانی کے انبیاء کے ظہور میں واسطہ قرار دیدیا ہے اور خدا تعالے کا کئی دوسرے کلام ملائکہ کے واسطہ سے کرنا مسلم۔ہے پس بنی خدا ہی بناتا ہے لیکن بنی بینے میں سبب اور واسطہ خاتم النبین ملا لیے علیہ وسلم ہوتے ہیں۔یہی مفہوم ہے مہرلگ کہ بنی بنے کا یہی معصوم مولانا مد قاسم صاحب اور مولوی محمود الحسن صاحب کے نزدیک آنحضرت صلے اللہ علیہ کہ تم کی کمرنگ کر نبی بننے سے ہے۔