اخلاقِ احمد — Page 23
اخلاق احمد 23۔دنیا میں شرک مٹانے آتے ہیں اور ہمارا کام بھی شرک مٹانا ہے نہ کہ شرک قائم کرنا۔“۔(سیرت المہدی حصہ دوم صفحه ۳۱۸) (۴) ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے بیان کیا کہ ایک دفعہ حکیم فضل دین صاحب مرحوم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عرض کیا کہ حضور مجھے قرآن پڑھایا کریں آپ نے فرمایا اچھا۔وہ چاشت کے قریب مسجد مبارک میں آجاتے اور حضرت صاحب ان کو قرآن مجید کا ترجمہ تھوڑا سا پڑھا دیا کرتے تھے یہ سلسلہ چند روز ہی جاری رہا پھر بند ہو گیا۔عام درس نہ تھا صرف سادہ ترجمہ پڑھاتے تھے یہ ابتدائی زمانہ مسیحیت کا واقعہ ہے۔(سیرت المہدی حصہ سوم صفحه ۶۲۵۳) السلام علیکم کہنا (۱) قاضی محمد یوسف صاحب نے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سلام کا اس قدر خیال تھا کہ خاکسار نے کئی بار دیکھا کہ حضو اگر چند لمحوں کے لئے بھی جماعت سے اُٹھ کر گھر جاتے اور پھر واپس تشریف لاتے تو ہر بار جاتے بھی اور آتے بھی السلام علیکم کہتے۔“ (سیرت المہدی حصہ سوم صفحه ۵۲۳) (۲) مولوی شیر علی صاحب نے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت صاحب نے کسی حوالہ وغیرہ کا کام میاں معراج دین صاحب عمر لا ہوری اور دوسرے لوگوں کے سپر د کیا۔چنانچہ اس ضمن میں میاں معراج دین صاحب چھوٹی چھوٹی پر چیوں پر لکھ کر بار بار حضرت صاحب سے کچھ دریافت کرتے تھے اور حضرت صاحب جواب دیتے تھے کہ یہ تلاش کرو یا فلاں کتاب بھیجو وغیرہ۔اسی دوران میں میاں معراج دین صاحب نے ایک پرچی حضرت صاحب کو بھیجی اور حضرت صاحب کو مخاطب کر کے بغیر السلام علیکم لکھے اپنی بات لکھ دی اور چونکہ بار بار ایسی پر چیاں آتی جاتی تھیں اس لیے جلدی میں ان کی توجہ اس طرف نہ گئی کہ السلام علیکم بھی لکھنا چاہئے حضرت صاحب نے جب اندر سے اس کا جواب بھیجا تو اس کے شروع میں لکھا کہ آپ کو السلام علیکم لکھنا چاہیے تھا۔“ (۳) حضرت میرزا بشیر احمد صاحب ایم اٹے نے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ دستور تھا کہ آپ اپنے تمام خطوط میں بسم اللہ اور السلام علیکم لکھتے تھے اور خط کے نیچے دستخط کر کے تاریخ بھی ڈالتے تھے۔میں نے کوئی خط آپ کا بغیر بسم اللہ اور سلام اور تاریخ کے نہیں دیکھا۔“ (سیرت المہدی حصہ اول صفحه ۲۹۹) (سیرت المہدی حصہ اوّل صفحه ۲۹۹)