اخلاقِ احمد

by Other Authors

Page 24 of 33

اخلاقِ احمد — Page 24

اخلاق احمد 24۔۔(۴) میر شفیع احمد صاحب محقق دہلوی نے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں میں نے ایک خاص بات دیکھی کہ جتنی مرتبہ حضور باہر تشریف لاتے میں دوڑ کر السلام علیکم کہتا اور مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھاتا۔حضور فوراً اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں اس طرح دے دیتے کہ گویا اس ہاتھ میں بالکل طاقت نہیں ہے یا یہ کہ وہ خاص اس لیے میرے سپر د کیا گیا ہے کہ جو چاہو اس ہاتھ سے برتاؤ کر لو۔میں اس ہاتھ کو لے کر خوب چومتا اور آنکھوں سے لگا تا اور سر پر پھیر تا مگر حضور کچھ نہ کہتے۔بیسیوں مرتبہ دن میں ایسا کرتا مگر ایک مرتبہ بھی حضور نے نہیں فرمایا کہ تجھے کیا ہو گیا ابھی تو مصافحہ کیا ہے پانچ پانچ منٹ بعد مصافحہ کی ضرورت نہیں۔“ (سیرت المهیدی حصہ سوم صفحه ۵۳۵) (۵) خواجہ عبد الرحمن صاحب ساکن کشمیر نے بیان کیا کہ ” جب کبھی کوئی شخص حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو السلام علیکم کہتا تو حضور عموماً اس کی طرف آنکھ اُٹھا کر دیکھتے اور محبت سے سلام (سیرت المہدی حصہ سوم صفحہ ۶۰۷) کا جواب دیتے۔“ (۶) مولوی شیر علی صاحب نے بیان کیا کہ ایک دفعہ ڈاکٹر محمد اسماعیل خاں صاحب مرحوم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عرض کیا کہ میرے ساتھ شفا خانہ میں ایک انگریز لیڈی ڈاکٹر کام کرتی ہے اور وہ بوڑھی عورت ہے وہ بھی بھی میرے ساتھ مصافحہ کرتی ہے اس کے متعلق کیا حکم ہے۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ یہ تو جائز نہیں۔آپ کو عذر کر دینا چاہیئے کہ ہمارے مذہب میں یہ جائز نہیں۔“ استقلال اور صدق وصفا (سیرت المہدی حصہ دوم صفحه ۴۰) (۱) رسالہ ”اندر“ لاہور نے جو آریوں کا ایک اخبار تھا آپ کی وفات پر لکھا ہے :۔اگر ہم غلطی نہیں کرتے تو مرزا صاحب اپنی ایک صفت میں محمد صاحب (صلعم) سے بہت مشابہت رکھتے تھے اور وہ صفت ان کا استقلال تھا۔خواہ وہ کسی مقصود کو لے کر تھا۔اور ہم خوش ہیں کہ وہ آخری دم تک اس پر ڈٹے رہے اور ہزاروں مخالفتوں کے باوجود ذرا بھی لغزش نہیں کھائی۔“ (سیرت المہدی حصہ اوّل صفحه ۲۹۵) (۲) آئینہ کمالات اسلام کے صفحہ ۲۹۷ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام محکمہ ڈاک کی طرف وه بچو ! تم اسلام کا کامل نمونہ بنو ارشاد حضرت خلیفہ انبیع الثانی رضی اللہ تعالی عنہ فرموده ۱۳۰ اپریل ۱۹۳۸ء)