اخلاقِ احمد

by Other Authors

Page 19 of 33

اخلاقِ احمد — Page 19

اخلاق 19 رَسُولُ اللَّهِ صَلْعَمَ يُمَازِحُ وَلَا يَقُولُ إِلَّا الْحَقَّ۔یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی مزاح کیا کرتے تھے مگر مزاح میں حق بات ہی کہتے یہ نہیں کہ تہذیب کو خیر باد کہہ کر تمسخر و استہزاء کا طریق اختیار کرتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت میں بھی ہمیں ہنسی دل لگی اور مزاح کی مثالیں ملتی ہیں جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں :- (۱) ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے بیان کیا کہ بعض اوقات حضور علیہ السلام کسی جنسی کی بات پر ہنستے تھے اور خوب ہنستے تھے یہاں تک میں نے دیکھا ہے کہ ہنسی کی وجہ سے آپ کی آنکھوں میں پانی آجاتا تھا جسے آپ اُنگلی یا کپڑے سے پونچھ دیتے تھے۔مگر آپ کبھی بیہودہ بات یا تمسخر یا استہزاء والی بات پر نہیں ہنتے تھے بلکہ اگر ایسی بات کوئی آپ کے سامنے کرتا تو منع کر دیتے تھے۔چنانچہ میں نے ایک دفعہ ایک تمسخر کا نا مناسب فقرہ کسی سے کہا۔آپ پاس ہی چار پائی پر لیٹے تھے۔ہوں ہوں کر کے منع کرتے ہوئے اُٹھ بیٹھے اور فرمایا ” یہ گناہ کی بات ہے۔(سیرت المہدی حصہ سوم صفحه ۵۸۸) (۲) حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے نے بیان کیا کہ ایک دفعہ جب میں ابھی بچہ تھا ہماری والدہ صاحبہ یعنی حضرت ام المؤمنین نے مجھ سے مزاح کے رنگ میں بعض پنجابی الفاظ بتا کر اُن کے اردو مترادف پوچھنے شروع کیے۔اس وقت میں یہ سمجھتا تھا کہ شائد حرکت کے لمبا کرنے سے ایک پنجابی لفظ اُردو بن جاتا ہے۔اس خود ساختہ اصول کے ماتحت میں جب اُوٹ پٹانگ جواب دیتا تھا تو والدہ صاحبہ بہت ہنستی تھیں اور حضرت صاحب بھی پاس کھڑے ہوئے ہنتے جاتے تھے۔اسی طرح حضرت صاحب نے بھی مجھ سے ایک دو پنجابی الفاظ بتا کر اُن کی اُردو پوچھی اور پھر میرے جواب پر بہت ہنسے۔چنانچہ مجھے یاد ہے کہ اس وقت میں نے سکتا“ کی اردو گوتا بتایا تھا اور اس پر حضرت صاحب بہت ہنستے تھے۔“ (سیرت المہدی حصہ سوم صفحہ۵۸۸) (۳) ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نہایت با مذاق طبیعت رکھتے تھے اور بعض اوقات تو خود ابتداء مزاح کے طور پر کلام فرماتے تھے۔“ (سیرت المہدی حصہ دوم صفحه ۳۴۷) (۴) حضرت میرزا بشیر احمد صاحب ایم اے نے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ہمارے گھر میں ایک خادمہ عورت رہتی تھی جس کا نام "مہر و " تھا۔وہ بیچاری ! گاؤں کی رہنے والی تھی اور ان الفاظ کو نہ بجھتی تھی جو ذرا زیادہ ترقی یافتہ تمدن میں مستعمل ہوتے ہیں چنانچہ ایک دفعہ حضرت صاحب نے اسے فرمایا کہ ایک خلال لا ؤ وہ جھٹ گئی اور