اخلاقِ احمد

by Other Authors

Page 16 of 33

اخلاقِ احمد — Page 16

اخلاق احمد 16 (۳) ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضور سے کسی بچہ نے پوچھا کہ کیا طوطا حلال ہے مطلب یہ تھا کہ کیا ہم طوطا کھانے کے لیے مارلیا کریں۔حضور نے فرمایا میاں حلال تو ہے مگر کیا سب جانور کھانے کے لیے ہی ہوتے ہیں؟ مطلب یہ تھا کہ خدا نے سب جانور صرف کھانے ہی کے لیے پیدا نہیں کیے۔بلکہ بعض دیکھنے کے لیے اور دُنیا کی زینت اور خوبصورتی کے لیے بھی پیدا کیے ہیں۔“ اپنے ہاتھ سے کام کرنا (سیرت المہدی حصہ سوم صفحه ۴۸۵) (1) ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے بیان کیا کہ ”حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گھر کا کوئی کام کرنے سے سے بھی عار نہ تھی۔چار پائیاں خود بچھا لیتے تھے فرش کر لیتے تھے۔بسترہ کرلیا کرتے تھے۔کبھی یکدم بارش آجاتی تو چھوٹے بچے تو چار پائیوں پر ہوتے رہتے۔حضور ایک طرف سے خود اُن کی چار پائیاں پکڑتے دوسری طرف سے کوئی اور شخص پکڑتا اور اندر برآمدہ میں کروا لیتے اگر کوئی شخص ایسے موقعہ پر یا صبح کے وقت بچوں کو جھنجھوڑ کر جگانا چاہتا تو حضور منع کرتے اور فرماتے کہ اس طرح یکدم ہلانے اور چیخنے سے بچہ ڈر جاتا ہے۔آہستہ سے آواز دیکر اُٹھاؤ۔(سیرت المہدی حصہ سوم صفحه ۵۵۹) (۲) میاں فیاض علی صاحب کپور تھلوی نے بیان کیا کہ حضرت اقدس دستِ مبارک سے زنانہ مکان سے کھانا لے آتے تھے اور ہمارے ساتھ بیٹھ کر تناول فرماتے تھے۔“ (سیرت المہدی حصہ سوم صفحہ ۷۲۷ ) صفائی (1) ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے بیان کیا کہ حضرت صاحب مسواک بہت پسند فرماتے تھے۔تازہ کیکر کی مسواک کیا کرتے تھے۔وضو کے وقت صرف اُنگلی سے ہی مسواک کر لیا کرتے تھے مسواک کئی دفعہ کہ کر مجھ سے بھی منگائی ہے اور دیگر خادموں سے بھی منگوالیا کرتے تھے اور بعض اوقات نماز اور وضو کے وقت کے علاوہ بھی استعمال کرتے تھے۔“ (سیرت المہدی حصہ سوم صفحہ ۶۳۹) (۲) ڈاکٹر صاحب موصوف ہی بیان کرتے ہیں کہ ”میں نے کئی دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اترے ہوئے کپڑوں کو ناک کے ساتھ لگا کر سونگھا ہے مجھے بھی بھی ان میں پسینہ کی یو نہیں آئی۔۔66 ( یعنی غیر معمولی صفائی اور طہارت کی وجہ سے۔ناقل ) (سیرت المہدی حصہ دوم صفحه ۳۲۶)