اخلاقِ احمد

by Other Authors

Page 10 of 33

اخلاقِ احمد — Page 10

اخلاق احمد 10۔آپ ہمارے مہمان ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے مہمان کا اکرام کرنا چاہیئے۔۔" (سیرت المہدی حصہ اوّل ۸۹) (۲) قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری سے روایت ہے کہ ایک دفعہ میں اور عبدالرحیم خان صاحب مسجد مبارک میں کھانا کھا رہے تھے جو حضرت صاحب کے گھر سے آیا تھا۔ناگاہ میری نظر کھانے میں ایک مکھی پر پڑی میں نے کھانا ترک کر دیا۔اس پر حضرت (صاحب) کے گھر کی ایک خادمہ کھانا اُٹھا کر واپس لے گئی۔۔۔۔حضرت اقدس اندرونِ خانہ کھانا تناول فرما رہے تھے۔خادمہ نے حضرت صاحب سے یہ ماجرا عرض کر دیا حضرت نے فوراً اپنے سامنے کا کھانا اٹھا کر اس خادمہ کے حوالہ کر دیا کہ پر لے جاؤ اور اپنے ہاتھ کا نوالہ بھی برتن میں چھوڑ دیاوہ خادمہ خوشی خوشی ہمارے پاس وہ کھانا لائی اور کہا کہ لوحضرت صاحب نے اپنا تبرک دے دیا ہے۔“ (۳) ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب سے مروی ہے کہ ”مولوی محمد علی صاحب ایم اے کے لیے خود حضرت اقدس صبح کے وقت گلاس میں دودھ ڈال کر اور پھر اس میں مصری حل کر کے خاص اہتمام سے بھجوایا کرتے تھے۔“ (سیرت المہدی حصہ دوم صفحه ۳۳۶) (سیرت المہدی حصہ دوم صفحہ ۳۷۷) (۴) ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب سے روایت ہے کہ ایک دفعہ لاہور سے کچھ احباب رمضان میں قادیان آئے حضرت صاحب کو اطلاع ہوئی تو آپ معہ کچھ ناشتہ ان سے ملنے کے لیے مسجد میں تشریف لائے ان دوستوں نے عرض کیا کہ ہم سب روزے سے ہیں۔آپ نے فرمایا سفر میں روزہ ٹھیک نہیں ہے اللہ تعالیٰ کی رخصت پر عمل کرنا چاہیئے۔چنانچہ ان کو ناشتہ کروا کے اُن کے روزے تڑوا دیئے۔“ (۵) حافظ نبی بخش صاحب نے بیان کیا کہ ایک دفعہ میں قادیان آیا تو ان ایام میں ایک چھوٹی چارپائی بیت الفکر میں موجود رہتی تھی اور کمرہ میں قہوہ تیا رہتا اور پاس ہی مصری موجود ہوتی تھی۔میں جتنی دفعہ دن میں چاہتا قہوہ پی لیتا۔حضور فرماتے اور پیو اور پیو۔“ (سیرت المہدی حصہ دوم صفحه ۳۷۸) (سیرت المہدی حصہ سوئم صفحه ۵۴۴) (1) خواجہ عبدالرحمن صاحب ساکن کشمیر نے روایت کی کہ ان کے والد صاحب نے بیان کیا کہ ابتدا میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام باہر ایک ہی دستر خوان پر جملہ اصحاب کے ساتھ مل کر کھانا تناول فرماتے تھے اس صورت میں کشمیری اصحاب کو بھی اسی مقدار میں کھا نا ملتا تھا جتنا که دیگر اصحاب کو۔اس پر ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کھانے کے منتظم کو حکم دیا کہ