اخلاقِ احمد

by Other Authors

Page 11 of 33

اخلاقِ احمد — Page 11

اخلاق احمد 11 کشمیر کے لوگ زیادہ کھانے کے عادی ہوتے ہیں ان کو بہت کھانا دیا کرو۔اسپر ہم کو زیادہ کھانا ملنے لگا۔“ (سیرت المہدی حصہ سوم صفحه ۸۲۴) (۷) سیٹھی غلام نبی صاحب نے بیان کیا کہ ایک دفعہ میں بمعہ اہل و عیال قادیان آیا۔۔۔۔اور حضرت مولوی نورالدین صاحب کے مکان میں رہتا تھا۔قریباً بارہ بجے رات کا وقت ہوگا کہ کسی نے دستک دی میں جب باہر آیا تو دیکھا کہ حضور ایک ہاتھ میں لوٹا اور گلاس اور ایک ہاتھ میں لیمپ لیے کھڑے ہیں فرمانے لگے کہ کہیں سے دودھ آ گیا تھا میں نے خیال کیا کہ بھائی صاحب کو بھی دے آؤں۔“ ( سیرت المہدی حصہ سوم صفحه ۸۶۸) (۸) حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے بیان کیا کہ ایک شب کا ذکر ہے کہ کچھ مہمان آئے جن کے واسطے جگہ کے انتظام کے لیے حضرت ام المؤمنین حیران ہو رہی تھیں کہ ان کو کہاں ٹھیرایا جائے اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اکرام ضیف کا ذکر کرتے ہوئے پرندوں کا ایک قصہ سنایا اور فرمایا : - دیکھو ایک دفعہ جنگل میں ایک مسافر کو شام ہوگئی۔رات اندھیری تھی قریب کوئی بستی اُسے دکھائی نہ دی اور نہ وہ ناچار ایک درخت کے نیچے رات گزارنے کے واسطے بیٹھ رہا۔اس درخت کے اوپر ایک پرند کا آشیانہ تھا۔پرندہ اپنی مادہ کے ساتھ باتیں کرنے لگا کہ دیکھو یہ مسافر جو ہمارے آشیانہ کے نیچے زمین پر آ بیٹھا ہے یہ آج رات ہمارا مہمان ہے اور ہمارا فرض ہے کہ اس کی مہمان نوازی کریں مادہ نے اس کے ساتھ اتفاق کیا اور ہر دو نے مشورہ کر کے یہ قرار دیا کہ ٹھنڈی رات ہے اور اس ہمارے مہمان کو آگ تاپنے کی ضرورت ہے اور تو کچھ ہمارے پاس نہیں۔ہم اپنا آشیانہ ہی تو ڑ کر نیچے پھینک دیں تا کہ وہ اُن لکڑیوں کو جلا کر آگ تاپ لے چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور سارا آشیانہ تنکا تنکا کر کے نیچے پھینک دیا۔اس کو مسافر نے غنیمت جانا اور اُن سب لکڑیوں اور تنکوں کو جمع کر کے آگ جلائی اور تاپنے لگا۔تب درخت پر اس پرندوں کے جوڑے نے پھر مشورہ کیا کہ آگ تو ہم نے اپنے مہمان کو بہم پہنچائی اور اُس کے واسطے سیکنے کا سامان مہیا کیا۔اب ہمیں چاہیئے کہ اُسے کچھ کھانے کو بھی دیں اور تو ہمارے پاس کچھ نہیں ہم خود ہی اس آگ میں جاگریں۔اور مسافر ہمیں بُھون کر ہمارا گوشت کھالے چنانچہ ان پرندوں نے ایسا ہی کیا اور مہمان نوازی کا حق ادا کیا۔“ (۹) ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے بیان کیا کہ اوائل میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام مد توں دونوں وقت کا کھانا مہمانوں کے ہمراہ باہر کھایا کرتے تھے کبھی مولوی عبدالکریم (ذکر حبیب صفحه ۸۶)