اخلاقِ احمد

by Other Authors

Page 12 of 33

اخلاقِ احمد — Page 12

اخلاق ا 12۔صاحب مرحوم کھانا کھاتے ہوئے کہتے کہ اس وقت اچار کو دل چاہتا ہے اور کسی ملازم کی طرف اشارہ کرتے۔تو حضور فوراً دستر خوان سے اٹھ کر بیت الفکر کی کھڑکی میں سے اندر چلے جاتے اور اچار لے آتے “ (سیرت المہدی حصہ سوم صفحہ ۷۹۹ ) (۱۰) سیٹھی غلام نبی صاحب نے بیان کیا کہ ”جب میں پہلے پہل قادیان گیا۔۔۔۔۔(حضرت مسیح موعود علیہ السلام بالا خانہ میں تھے ) میں نے جا کر السلام علیکم عرض کیا حضرت صاحب نے سلام کا جواب دیا اور مصافحہ کر کے فرمایا کہ بیٹھ جاؤ میں چار پائی پر بیٹھ گیا۔حضرت جی نے صندوق کھولا اور مصری نکال کر گلاس میں ڈالی اور پانی ڈال کر قلم سے ہلا کر آپ نے دست مبارک سے یہ شربت کا گلاس مجھے دیا اور فرمایا کہ آپ گرمی میں آئے ہیں یہ شربت پی لیں۔“ دوستوں سے سلوک (سیرت المہدی حصہ سوم ۸۶۸) (۱) مولوی شیر علی صاحب نے بیان کیا کہ یوں تو حضرت صاحب اپنے سارے خدام سے ہی بہت محبت رکھتے تھے لیکن میں یہ محسوس کرتا تھا کہ آپ کو مفتی صاحب سے خاص محبت ہے جب بھی آپ مفتی صاحب کا ذکر فرماتے تو فرماتے ”ہمارے مفتی صاحب اور جب مفتی صاحب لاہور سے قادیان آیا کرتے تھے تو حضرت صاحب ان کو دیکھ کر بہت خوش ہوتے تھے۔۔66 (سیرت المہدی حصّہ اوّل صفحه ۳۰۳) (۲) ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے بیان کیا کہ ”مولوی عبداللطیف صاحب شہید کی شہادت کے بعد ان کا کوئی مریدان کے کچھ بال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس قادیان لا یا۔آپ نے وہ بال ایک کھلے منہ کی چھوٹی بوتل میں ڈال کر اور اس کے اندر کچھ مشک رکھ کر اس بوتل کو سر بمہر کر دیا۔اور پھر اس شیشی میں تاکہ باندھ کر اسے اپنی بیت الدّعا کی ایک کھونٹی سے لٹکا دیا۔اور یہ سارا عمل آپ نے ایسے طور پر کیا کہ گویا ان بالوں کو آپ ایک تبرک خیال فرماتے تھے اور نیز بیت الدعا میں اس غرض سے لٹکائے گئے ہونگے کہ دُعا کی تحریک رہے۔“ (سیرت المہدی حصہ دوم صفحه ۳۶۸) (۳) سیٹھی غلام نبی صاحب نے بیان کیا کہ ”جب آئینہ کمالات اسلام چھپ رہی تھی تو ان دنوں میں میں قادیان آیا اور جب میں جانے لگا تو وہ اسی صفحہ تک چھپ چکی تھی۔میں نے اس حصہ کتاب کو ساتھ لے جانے کے لیے عرض کیا اس پر حضرت مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم