جماعت احمدیہ پر اعتراضات کا علمی جائزہ — Page 69
۶۹ ارادہ کی تکمیل کے لیے مجھے اوزار یا آلہ کار بنالیتا ہے۔الفرقان (بریلی، شاہ ولی اللہ تمبر م ا ) از مولانا محمد منظور نعمانی) بار دوم دہلی ) رح ۱۰ اسی طرح سلطان العارفين سيد الأقطاب حضرت الشيخ ابو محمد روز یہان " (مصنف تفسیر عرائض البیان) اپنا یہ مکاشفہ بیان فرماتے ہیں کہ : الْبَسَنِي لِبَاسًا مِنْ حُسْتِهِ وَجماله۔۔۔۔ثُمَّ جَعَنِي مُتَّصِفًا بِصِفَاتِهِ ثُمَّ جَعَلْنِي مُتَحِدًا بِذَاتِهِ ثُمَّ رأيتُ نفسى كَائِي هُوَ " دکشف الاسرار صفحہ 11 مطبوعہ ترکی ۱۹۷۱ء ادبیات - EDEBIYAT) FAKULTESI MATBAASI MATBAASI IStanbul) اللہ جل شانہ نے مجھے اپنے حسن و جمال کا لباس پہنایا پھر مجھے اپنی صفات سے متصف کر کے اس طرح اپنی ذات سے متحد کر دیا کہ میں نے اپنے نفس کو دیکھا کہ گویا میں خدا ہی ہوں۔سلوک کی اس منزل میں بعض اہل اللہ بے اختیار ہو کر " انا الحق " کہہ اٹھتے ہیں چنانچہ حضرت سیّد عبد القادر جیلانی غوت صمدانی " فتوح الغیب (مقالہ ۳ ، ۱۳ ، ۱۶) میں فرماتے ہیں کہ قرب نوافل کا وہ مرتبہ فنائیت ذاتی کا مقام ہے جس سے محققین کے نزدیک " انا الحق کا ظہور ہوتا ہے اور یوں بندہ ترقی کر کے แ