جماعت احمدیہ پر اعتراضات کا علمی جائزہ

by Other Authors

Page 59 of 81

جماعت احمدیہ پر اعتراضات کا علمی جائزہ — Page 59

09 سے تحقیق از بس ضروری ہے۔جہاں تک مجھے معلوم ہے یہ مسئلہ عجبی مسلمانوں کی ایجاد ہے اور اصل اس کی آرین ہے۔نبوت کا سامی تخیل اس سے بہت اعلیٰ و ارفع ہے۔میری رائے ناقص میں اس مسئلہ کی تاریخی تحقیق قادیانیت کا خاتمہ کرنے کیلئے کافی ہوگی۔" را قبال نامہ حصہ اول ۴۱۵-۴۲۰ مکتوب ۲۷ مئی (۱۹۳۶ء) جواب : یہ اعتراض دراصل حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی حقانیت کا ایک چمکتا ہوا نشان ہے۔اس لیے قرآن مجید میں أخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهم (الجمعہ : ۴) کے ذریعہ آخرین میں بھی محمد رسول اللہ کے آنے کی پیشگوئی کی گئی تھتے جس کی تفسیر حضرت خاتم النبيين محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان مبارک سے یہ بیان فرمائی کہ اگر کسی زمانہ میں ایمان ثریا تک چلا گیا تو اہل فارس کی نسل سے ایک یا ایک سے زیادہ لوگ اسے واپس لے آئیں گے اور ایمان کو از سر تو دنیا میں قائم کردیں گے۔الو كَانَ مُعَلَّقَا بِالثَّرَيَّا لَنَالَهُ رَجُلٌ اَوْ رِجَالُ مِنْ فَارِسُ) · د بخاری کتاب التفسير - تفسير سورة الجمعه یہی وہ بروزِ محمدی ہے جس کی نسبت نویں صدی ہجری کے صوفی حضرت عبد الرزاق قاشانی نے یہ خبر دی کہ : الْمَهْدِئُ الذِي يُجِى فى اخرِ الزَّمَانِ فَإِنَّهُ يَكُونُ فِي الْأَحْكَامِ الشَّرِعِيَّةِ تَابِعًا لِمُحَمَّدٍ صَلَّى