جماعت احمدیہ پر اعتراضات کا علمی جائزہ — Page 31
اب رہ گیا اعتراض کا یہ آخری جند که حضرت بانی سلسلہ سلہ احمدیہ کا دعویٰ ہے کہ ان پر تین لاکھ آیات کی وحی اتری جن میں سے پچاس ہزار مختلف ذرائع سے روپیہ حاصل کرنے سے متعلق تھیں۔سو ایسی کوئی عبارت سرے سے آپ کی کتب میں پائی ہی نہیں جاتی۔ہاں "حقیقة الوحی" صفحہ ۳۳۲ پر یہ ضرور لکھا ہے کہ " خدا تعالیٰ کی مجھ سے یہ عادت ہے کہ اکثر جو نقد روپیہ آنے والا ہو یا جو چیزیں تخالف کے طور پر ہوں ان کی خبر قبل از وقت بذریعہ الهام یا خواب مجھ کو دے دیتا ہے اور اس قسم کے نشان پچاس ہزار سے کچھ زیادہ ہوں گے “ اس عبارت پر شرعاً کوئی اعتراض وارد نہیں ہو سکتا کیونکہ اس میں " يَرْزُقُهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَب " کی قرآنی صداقت کے بار بار ظہور کا تذکرہ ہے۔میں یہ بھی کہوں گا کہ جو اذہان یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو علم غیب کا یہ معجزہ دیا گیا تھا کہ آپ لوگوں کو بتا دیتے تھے کہ کیا کھا چکا ہے ؟ کل کیا کھائے گا ؟ اور کیا سٹور کرے گا ؟ اے انہیں تو حضرت بانی سلسلہ کے غیبی نشانات کو تختہ مشق بنانا زیب نہیں دیتا۔وه چھٹا اعتراض شرعیت نے چودہ سو له حاشیه قرآن از مولانا سید نعیم الدین صاحب و مولنا سید مقبول احمد صاحب دہلوی زیر آیت آل عمران : ۵۴)