حضرت عائشہ صدیقہ ؓ — Page 18
أم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ 18 صلى الله فرماتے فرماتے آپ ﷺ وفات پا گئے یہ 12 ربیع الاول سوموار کا دن تھا۔انا للہ وانا الیہ راجعون حضرت عائشہ کے حجرہ میں ہی آپ میﷺ کو دفن کیا گیا اس کی وجہ حضرت عائشہ یہ بیان کرتی ہیں کہ آپ ﷺ نے مرض الموت میں فرمایا: ”خدا یہود و نصاری پر لعنت کرے کہ انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا اگر یہ ڈر نہ ہوتا تو آپ ﷺ کی قبر کھلے میدان میں ہوتی لیکن آپ ﷺ حجرہ میں دفن ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی قبر کو جدہ گاہ بننے سے بچالیا۔آنحضرت ﷺ کی بیوی ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے حکم کے صلى الله مطابق تمام مومنوں کی ماں تھیں اس لئے صحابہ کو جب بھی کوئی مشکل پیش آتی ان کو حضرت عائشہ آسان حل بتا تیں۔حضرت عائشہ کی کوئی اولاد نہ تھی چنانچہ رسول پاک ﷺ نے حضرت عبداللہ بن زبیر جو آپ کی بہن حضرت آسمان کے بیٹے تھے کے نام پر آپ کی کنیت ام عبداللہ رکھی۔(14) آپ غزوہ بدر میں بھی شریک ہوئیں۔جنگ اُحد میں زخمیوں کو پانی پلاتی رہیں۔غزوہ خندق میں جب مسلمان قلعہ میں بند تھے آپ زنانہ