ایک نیک بی بی کی یاد میں — Page 7
10 9 کے موقع پر میرے والدین، چھوٹی خالہ اور میرے چچا جان جو بعد میں میرے خسر بھی بننے والے تھے۔قادیان پہنچ گئے۔برادرم عبدالرحمان خاں صاحب بھی اپنی چھوٹی ہمشیرہ آمنہ بی بی کو لے کر قادیان آگئے۔25 / دسمبر 1940ء کو سیدنا حضرت مصلح موعود نے ہمارے نکاح کا بیت مبارک میں اعلان فرمایا۔رخصتانہ کے لئے 29 / دسمبر کی تاریخ مقرر ہو گئی۔جامعہ احمدیہ کی عمارت کے قریب ابا جان نے ایک نیا مکان کرائے پر لے لیا اور محترم خاں صاحب سے دریافت کیا کہ بارات میں کتنے افراد شامل کیے جائیں۔حضرت خاں صاحب نے جواباً کہا بیٹی تو میں نے ایک ہی کو دینی ہے۔آپ جتنے افراد شامل کرنا پسند کریں کرلیں۔صرف افراد خانہ پر مشتمل چند افراد بارات کے ساتھ گئے۔اور رخصتانہ لے آئے۔میرے چا جان بھی اس شادی پر بہت خوش تھے۔کیونکہ یہ معاملہ حضرت دادا جاں کی منظوری سے طے پایا تھا۔اور ان کی اطاعت ہر حال میں ان پر واجب تھی۔چند دن کے بعد جلسہ کی رخصتیں ختم ہو گئیں۔میرے والدین اپنی بہو کو لے کر لودھراں چلے گئے اور میں ہوٹل جامعہ احمدیہ میں لوٹ آیا اور تعلیم حسب معمول جاری رہی۔آئندہ سال ابا جان قادیان آئے اور محلہ دار الفضل میں ہمارے لئے ایک مکان خرید لیا۔ہم بالا خانے میں رہنے لگے اور نچلا حصہ کرائے پر دے دیا گیا۔تھوڑے دنوں کے بعد والدہ محترمہ بھی ہمارے پاس آگئیں۔اپنی بھانجی کو بھی تعلیم کے لئے قادیان لے آئیں۔جس نے بعد میں میری دوسری بیوی بننا تھا۔میری پہلی بیوی ہم سب کی خدمت میں مصروف ہو گئی۔اگلے سال میں نے درجہ ثانیہ کا امتحان دیا۔جو پنجاب یونیورسٹی کا مولوی فاضل کا امتحان کہلاتا تھا۔میں اپنی جماعت میں اول یونیورسٹی میں سوم اور فرسٹ ڈویژن میں کامیاب ہوا۔میری بیوی نے خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ آپ کو یہ پوزیشن میری وجہ سے ملی ہے۔مجھے اس سے اختلاف کرنے کی کوئی صورت نظر نہ آئی اور ان کی بات مان لی گئی۔ہمارے مولوی فاضل کے امتحان کے بعد حضرت سید نا مصلح موعود نے مسلسل خطبات جمعہ میں جماعت کے نوجوانوں کو وقف زندگی کی طرف بلایا۔میں نے بیوی سے مشورہ کیا۔انہوں نے کہا۔اس سے بڑی خوش قسمتی اور کیا ہوگی۔میں نے وقف زندگی کا فارم پر کر دیا۔وقف منظور ہو گیا۔پہلے مہینے کے اختتام پر مجھے دس روپے الاؤنس ملا۔ہماری خوشی کی انتہا نہ رہی ، وقف بھی منظور اور ساتھ روپے بھی۔مولوی فاضل پاس کرنے کے بعد میں نے مربیان کی کلاس میں داخلہ لے لیا جو دوسال کی ہوتی تھی۔اس کے بعد ایک سال کے لئے صرف کا ایک خصوصی کورس کیا۔اور 1946 ء کے آغاز میں مجھے مربی کے طور پر کانپور (یو۔پی ) بھجوادیا گیا۔جنوری 46 ء سے دسمبر 46 ء تک کا عرصہ ہم میاں بیوی نے الگ الگ گزارا اور یہ ہمارا کامیاب تجربہ ثابت ہوا۔ابھی اس سے سخت امتحان آگے آنے والے تھے۔گھریلو زندگی میں بچوں کی پیدائش ایک قدرتی معاملہ سمجھا جاتا ہے۔جب کچھ سال شادی کے بعد یونہی گزر گئے تو میری والدہ محترمہ کو فکر دامن گیر ہوا۔کئی جگہ سے علاج کرایا گیا۔مگر کارگر نہ ہوا۔بلکہ کہا گیا کہ اولاد ہو ہی نہیں سکتی۔ایسے حالات میں دعاؤں کی طرف زیادہ توجہ ہو جاتی ہے۔بہت سے بزرگان سلسلہ سے دعا کی درخواست کی، مزنگ لاہور کے حضرت قاضی حبیب اللہ صاحب ( رفیق حضرت بانی سلسلہ ) ان دنوں قادیان میں تھے۔ان سے بھی دعا کی التجا کی۔تھوڑے دنوں بعد میری گھر والی نے ایک خواب دیکھا۔اس کی تعبیر حضرت قاضی صاحب نے یہ فرمائی کہ ہمارے ہاں بیٹا ہوگا۔مگر خاموشی بدستور قائم رہی۔اور حالات جوں کے توں رہے۔اتنے میں ہندوستان تقسیم ہو گیا۔قادیان بھارت کا حصہ بن گیا۔فسادات شروع ہو گئے اور ہم گھر بار، سامان (جس میں جہیز کا سامان بھی شامل تھا) چھوڑ کر بورڈ نگ تحریک جدید میں پناہ گزیں ہو گئے۔بسوں کا ایک بڑا قافلہ قادیان سے پاکستان آیا۔اس میں عورتیں بچے اور