ایک نیک بی بی کی یاد میں

by Other Authors

Page 10 of 14

ایک نیک بی بی کی یاد میں — Page 10

16 15 یہ خواہش اور کوشش رہی کہ وہ مجھے خدمت دین کے لئے زیادہ سے زیادہ فرصت مہیا کریں۔ہماری یہ حالت دیکھ کر بعض دفعہ نا واقف عورتیں والدہ مبارک احمد سے یہ دریافت کرتیں کہ کیا یہ آپ کی بیٹی ہیں۔تو وہ کہتیں یہ مولوی صاحب کی دوسری بیوی ہیں۔یہ سن کر وہ متعجب ہوتیں کہ بظاہر تو ایسا معلوم نہیں ہوتا۔والدہ مبارک احمد نے کبھی سوت یا سوکن کا لفظ استعمال نہیں کیا۔نہایت صبر و تحمل بلکہ محبت اور شفقت کا سلوک ایک دوسری سے کرتی رہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں اس نے نفسی کا احسن بدلہ دے۔عزیزه امتہ الباسط ایاز صاحبہ نے والدہ مبارک احمد کی وفات کی خبر روز نامہ الفضل میں پڑھ کر لندن سے ہمیں تعزیتی خط لکھا ہے۔اس میں بڑے افسوس کے اظہار کے علاوہ انہوں نے لکھا ہے کہ آپا آمنہ مثالی بیوی تھیں۔اس بات میں شک ہی کیا ہے کہ عورت کی فطرت چاہتی ہے کہ اسے خاوند کی پوری محبت حاصل رہے۔کسی قسم کی شراکت اسے کلیہ نا پسند ہوتی ہے۔لیکن والدہ مبارک احمد ا کثر کہا کرتی تھیں کہ جب شریعت نے مرد کے لئے تعدد ازدواج کی گنجائش رکھی ہے۔اور حضور نے بھی آپ کو دوسری شادی کی اجازت دے دی ہے۔تو میں اسے نا پسند کیسے کرسکتی ہوں۔گویا نفس بالکل ماردیا گیا تھا۔صرف اسی پر بس نہیں۔والدہ مبارک احمد مجھ سے انتہائی احترام کا سلوک کرتی تھیں۔میاں بیوی میں محبت تو ہوتی ہے۔لیکن ان میں ادب کا مادہ انتہا کو پہنچا ہوا تھا۔باون سال کی ازدواجی زندگی میں انہوں نے کبھی میرے متعلق ایسے الفاظ استعمال نہیں کئے جن میں کسی قسم کی درشتی اور ہتک پائی جاتی ہو۔میں سمجھتا ہوں کہ اس لحاظ سے بھی وہ مثالی بیوی تھیں۔ورنہ عام انگریزی مقولہ ہے کہ محبت اور لڑائی میں سبھی کچھ جائز ہوتا ہے۔والدہ مبارک احمد نے قرآن شریف پڑھانے میں بے حد کام کیا۔32 سال تک وہ اس محلہ میں رہی ہیں۔لجنہ کے دوسرے کاموں کے علاوہ بہت سے بچوں اور بچیوں کو انہوں نے قرآن مجید ناظرہ سکھایا۔ان کے شاگرد ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔چند روز پہلے عزیزم مظفر محمود احمد صاحب مربی سپین نے والدہ مبارک احمد کی وفات کی خبر سن کر لکھا وہ ہماری معلمہ تھیں۔اور بچوں سے بہت پیار کرنے والی ہستی تھیں۔اللہ تعالیٰ انہیں غریق رحمت کرے۔اور آپ سب کو صبر جمیل کی توفیق بخشے۔۔۔غریب عورتوں کے ساتھ ان کا سلوک بھی مثالی تھا۔کسی کو اپنے سامنے زمین پر بیٹھنے نہیں 66 دیتی تھیں۔ہمیشہ چار پائی یا کرسی پیش کرتیں۔اور نقد جنس یا کپڑوں سے ان کی مدد کر تیں۔مالی قربانی یا چندوں کی ادائیگی میں بھی ان کا قدم بہت آگے تھا۔پانچویں حصہ کی وصیت تو انہوں نے قادیان ہی میں کر دی تھی جو 16 جون 92 ء تک (جوان کا یوم وفات تھا ) با قاعدگی سے ادا کرتی رہیں۔آخری رسید کی تاریخ 6 / جون ہی ہے۔تحریک جدید ، وقف جدید اور لجنہ کے فرض اور طوعی چندہ جات بھی باقاعدگی سے ادا کرتی رہیں۔گزشتہ رمضان میں ہمیں نے انہیں بتایا کہ ہمارے حلقہ کی بیت سلام کا برآمدہ بن رہا ہے۔میں اس میں اپنا چندہ ادا کر آیا ہوں۔یہ سنتے ہی پچاس روپے کا نوٹ مجھے دیا کہ میری طرف سے بھی ادا کر دیں۔میں نے کہا کہ صدر صاحب محلہ ھذا نے اعلان کیا ہے کہ محلے والوں سے سوروپے کم از کم لئے جائیں اس پر وہ سو روپے لے آئیں۔یہ آخری نفلی چندہ تھا جو خدا کے گھر کی تعمیر کے لئے انہوں نے دیا۔ریٹائر ہونے کے بعد میں نے کوشش کی کہ ان کا وصیت کا چندہ فاضلہ رہے۔کئی بار خدا تعالیٰ کے فضل سے دفتر بہشتی مقبرہ سے ہمیں فاضلہ کی اطلاع ملی میں نے دونوں بیویوں کی وصیت اسی لئے کرائی تھی کہ جس طرح ہم نے دنیا میں پر سکون اور خوشگوار زندگی گزاری ہے اگر پرس خدا تعالیٰ چاہے تو آخرت میں اس سے بھی بہتر ماحول میں زندگی گزرے۔وہاں نہ بیماری ہو گی۔نہ بڑھا پا اور نہ جنت سے نکالے جانے کا ڈر۔وہاں تو موت قدم بھی نہ رکھ سکے گی بالخصوص والدہ مبارک احمد جیسی نیک صورت اور فرشتہ سیرت بی بی سے تو جدا ہونے کو ایک لمحہ کے لئے دل نہیں چاہتا تھا۔خدا تعالیٰ کی مشیت نے عارضی طور پر ہمیں جدا کیا ہے۔امید ہے کہ بہت جلد ہم