ایک حیرت انگیز انکشاف

by Other Authors

Page 27 of 41

ایک حیرت انگیز انکشاف — Page 27

۲۷ دوم : " میں کہتا ہوں کہ یہی حال دواؤں کا بھی ہے۔کیا دواؤں نے موت کا دروازہ بند کر دیا ہے یا ان کا خطا جانا غیر ممکن ہے ؟ مگر کیا با وجود اس بات کے کوئی ان کی تاثیر سے انکار کر سکتا ہے ؟ یہ سچ ہے کہ ہر ایک امر پر تقدیر محیط ہو رہی ہے۔مگر تقدیر نے علوم کو ضائع اور بے حرمت نہیں کیا اور نہ اسباب کو بے اعتبار کر کے دکھلایا بلکہ اگر غور کر کے دیکھو تو یہ جسمانی اور روحانی اسباب بھی تقدیر سے باہر نہیں ہیں مثلاً اگر ایک بیمار کی تقدیر نیک ہو اسباب تقدیر علاج پورے طور پر میسر آجاتے ہیں اور جسم کی حالت بھی ایسے درجہ پر ہوتی ہے کہ وہ اُن سے نفع اٹھانے کے لیے مستعد ہوتا ہے تب دوانشانہ کی طرح جاگہ اثر کرتی ہے۔یہی قاعدہ دعا کا بھی ہے۔یعنی دعا کے لیے بھی تمام اسباب و شرائط قبولیت اسی جگہ جمع ہوتے ہیں جہاں ارادہ الہی اس کے بركات الدعا صفحه ۱۱ و ۱۲ ) قبول کرنے کا ہے۔جناب حکیم الامت مجدد الملت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی نے برکات الدعا" کے مندرجہ بالا دونوں اقتباسات اگر چہ نہایت اہتمام کے ساتھ اپنی مقبولِ عام کتاب کے صفحہ ۸۴ ۸۵ پر حقیقت دعا و قضا کے عنوان سے قلمبند فرما دیتے ہیں مگر میں جس فقرے میں سرسید کا نام تھا اس کو کمال فطانت و ذہانت سے دوسرے الفاظ میں بدل ڈالا ہے۔